ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

گورنر شادی کیوں نہیں کرتا تھا ؟

datetime 9  مارچ‬‮  2017 |

صوبہ تکریت کا گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ھونے تک شادی سے انکار کرتا رہا، ایک دن اس کے بھائی اسدالدین شیر کوہ نے اس سے کہا : بھائی تم شادی کیوں نھیں کرتے ..؟ نجم الدین نے جواب دیا : میں کسی کو اپنے قابل نھیں سمجھتا۔ اسدالدین نے کہا : میں آپ کیلئے رشتہ مانگوں ؟

نجم الدین نے کہا : کس کا ؟ اسدالدین: ملک شاہ بنت سلطان محمد بن ملک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا یا وزیر المک کی بیٹی کا؟ نجم الدین ! وہ میرے لائق نہیں، اسدالدین حیرانگی سے: پھر کون تیرے لائق ھوگی؟ نجم الدین نے جواب دیا : مجھے ایسی نیک بیوی چاھئیے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے میرا اک ایسا بیٹا پیدا ہو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ہو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے۔ اسدالدین کو نجم الدین کی بات پسند نہ آئی اور انہوں نے کہا :ایسی تجھے کہاں ملے گی ؟ نجم الدین نے کہا : نیت میں خلوص ہو تو اللہ نصیب کرے گا۔ ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے اک شیخ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ایک لڑکی آئی اور پردے کے پیچھے سے ہی شیخ کو آواز دی ، شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کیلئے نجم الدین سے معذرت کی ۔ نجم الدین سنتا رہا شیخ لڑکی سے کیا کہہ رہا ہے ؟ شیخ نے لڑکی سے کہا تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کردیا جس کو میں نے بھیجا تھا؟ لڑکی : اے ہمارے شیخ اور مفتی وہ لڑکا واقعی خوبصورت اور رتبے والا تھا مگر میرے لائق نہیں تھا شیخ : تم کیا چاھتی ہو ؟ لڑکی : شیخ مجھے اک ایسا لڑکا چاھئیے جو میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے مجھے اللہ ایک ایسا بیٹا دے جو شہسوار ہواور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے۔ نجم الدین حیران رہ گیا کیونکہ جو وہ سوچتا تھا وہی یہ لڑکی بھی سوچتی تھی۔

نجم الدین جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کے رشتے ٹھکرائے تھے شیخ سے کہا اس لڑکی سے میری شادی کروا دیں۔ شیخ : یہ محلے کے سب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ھے۔ نجم الدین: میں یہی چاہتا ہوں۔ نجم الدین نے اس فقیر متقی لڑکی سے شادی کر لی اور اسی سے وہ شہسوار پیدا ہوا جسے دنیا سلطان صلاح الدین ایوبیؒ” کے نام سے جانتی ھے جنہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد کروایا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…