حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ سعادت کئی مرتبہ حاصل ہوئی کہ وحیِ خداوندی نے ان کی رائے کی تائید کی۔ امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے “تاریخ الخلفاء ” میں ایسے بیس اکیس مواقع کی نشاندہی کی ہے اور امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمتہ اللہ علیہ نے “ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء ” میں دس گیارہ واقعات کا ذکر کیا ہے ان میں سے چند یہ ہیں
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ جنگِ بدر کے قیدیوں کو قتل کیا جائے۔ اس کی تائید میں سورۃ الانفال کی آیت 67 نازل ہوئی۔ منافقوں کا سرغنہ “عبداللہ بن اْبیّ” مرا تو آپ کی رائے تھی کہ اس منافق کا جنازہ نہ پڑھایا جائے۔ اس کی تائید میں سورۃ التوبہ کی آیت 84 نازل ہوئی۔ آپ مقامِ ابراہیم کو نماز گاہ بنانے کے حق میں تھے۔ اس کی تائید میں سورہ بقرہ کی آیت 125 نازل ہوئی۔ آپ ازواجِ مطہرات کو پردہ میں رہنے کا مشورہ دیتے تھے اس پر سورہ احزاب کی آیت 53 نازل ہوئی اور پردہ لازم کردیا گیا۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جب بدباطن منافقوں نے نارَوا تہمت لگائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (دیگر صحابہ کے علاوہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی رائے طلب کی۔ آپ نے سنتے ہی بے ساختہ کہا “توبہ , توبہ ! یہ تو کھلا بہتان ہے” اور بعد میں انہی الفاظ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت نازل ہوئی۔ایک موقع پر آپ نے ازواجِ مطہرات کو فہمائش کرتے ہوئے ان سے کہا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تم سے بہتر بیویاں عطا کردے گا۔ اس کی تائید میں سورۃ التحریم کی آیت نمبر 5 نازل ہوئی۔



















































