ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

کابل میں امریکی سفارتخانے کے قریب ملٹری ہسپتال پر فائرنگ اور خودکش حملہ،بڑی تباہی،حملہ آور کون تھے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 8  مارچ‬‮  2017 |

کابل(آئی این پی )افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارتخانے کے قریب واقع سب سے بڑے ملٹری ہسپتال پر مسلح افرادکے حملے میں 30افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے ،داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی،افغان صدر اشرف غنی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے نے انسانی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے، تمام مذاہب میں ہسپتال کو حملوں سے محفوظ مقام قرار دیا گیا ہے اس پر حملہ

کرنا پورے افغانستان پر حملہ کرنا ہے۔بدھ کو افغان میڈیا کے مطابق وزارتِ دفاع کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دارالحکومت کابل میں سب سے بڑے ملٹری ہسپتال پر مسلح حملہ آوروں نے دھاوا بول کراندھا دھند فائرنگ کردی ،اس دوران خودکش بمبار نے بھی خود کو دھماکے سے اڑا دیا ۔ حملے میں 30 افراد ہلاک اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے ۔افغان وزراتِ دفاع کے ترجمان دولت وزیری کا کہنا تھا سردار داد خان ہسپتال کے صدر دروازے پر ایک خود کش حملے کے بعد تین مزید حملہ آور عمارت کے اندر داخل ہوئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسند ڈاکٹروں کے حلیے میں تھے۔شدت پسند تنظیم دولتِ السامیہ نے اں حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور ابھی بھی ہسپتال کے اندر موجود ہیں اور لڑائی جاری ہے۔ ہسپتال کے قریب ایک دھماکے کی آواز بھی سنی گئی۔مریضوں کے لیے 400 بستروں پر مشتمل یہ ہسپتال کابل میں امریکی سفارتخانے کے قریب ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ تمام مریضوں کو نکال لیا گیا ہے۔ادھر ہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انھوں نے ایک حملہ آور کو ڈاکٹر کا کوٹ پہننے دیکھا تھا، اور اس شخص نے کوٹ کے نیچے سے رائفل نکالی اور فائرنگ کر کے دو لوگوں کو گولیاں مار دیں۔ ایک سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ خودکار ہتھیاروں سے لیس 3-5 حملہ آور ہسپتال میں داخل ہوئے اور انھوں نے تیسری اور

چوتھی منزل پر مورچہ سنبھال لیا تھا۔افغان صدر اشرف غنی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس حملے نے انسانی اقدار کی خلاف ورزی کی ہے۔انھوں نے کہا کہ تمام مذاہب میں ہسپتال کو حملوں سے محفوظ مقام قرار دیا گیا ہے اور اس پر حملہ کرنا پورے افغانستان پر حملہ کرنا ہے۔

تقریبا ایک ہفتے قبل کابل میں بھی دو خودکش دھماکوں میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے جبکہ جنوری میں کابل میں افغان پارلیمان کے قریب دہرے دھماکوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو ئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…