روایت ہے کہ ایک روز حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی دعوت کی۔ جب دونوں عالم کے میزبان ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان پر رونق افروز ہوئے تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ پ کے پیچھے چلتے ہوئے آپﷺ کے قدموں کو گننے لگے اور عرض کیا کہ
یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ،میری تمنا ہے کہ حضور ﷺکے ایک ایک قدم کے عوض میں آپ کی تعظیم وتکریم کے لیے ایک ایک غلام آزاد کروں۔چنانچہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مکان تک جس قدر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلا م کے قدم پڑے تھے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ا تنی ہی تعدا د میں غلاموں کو خرید کر آزاد کردیا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس دعوت سے متاثر ہوکر حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا: اے فاطمہ ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا آج میرے دینی بھائی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی بڑی ہی شاندار دعوت کی ہے اور حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ہر ہر قدم کے بدلے ایک غلام آزاد کیا ہے۔ میری بھی تمنا ہے کہ کاش! ہم بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اسی طرح شاندار دعوت کر سکتے۔ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے شوہر نامدارحضرت علیؓسے متاثر ہوکر کہا : بہت اچھا، جائیے آپ بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو اسی قسم کی دعوت دیتے آئیے ان شاء اللہ تعالیٰ ہمارے گھر میں بھی اسی قسم کا سارا انتظام ہو جائے گا۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر دعوت دے دی اور شہنشاہ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اپنے صحابہ کرام کی ایک کثیر جماعت کو ساتھ لے کر اپنی پیاری بیٹی کے گھرمیں تشریف فرما ہو گئے۔
حضرت سیدہ خاتون جنت رضی اللہ تعالیٰ عنہا خلوت میں تشریف لے جا کر خداوند قدوس کی بارگاہ میں سربسجود ہو گئیں اور یہ دعا مانگی:”یا اللہ! عزوجل تیری بندی فاطمہ نے تیرے محبوب اورمحبو ب کے اصحاب کی دعوت کی ہے۔ تیری بندی کا صرف تجھ ہی پر بھروسہ ہے لہٰذا اے میرے رب ! عزوجل تو آج میری لاج رکھ لے اوراس دعوت کے کھانوں کا تو عالم غیب سے انتظام فرما۔یہ دعا مانگ کر حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ہانڈیوں کو چولہوں پر چڑھا دیا۔ خداوند تعالیٰ کا دریائے کرم ایک دم جوش میں آ گیا اور اس رزاق مطلق نے دم زدن میں ان ہانڈیوں کو جنت کے کھانوں سے بھر دیا۔ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان ہانڈیوں میں سے کھانا نکالنا شروع کردیا اورحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ کھانا کھانے سے فارغ ہوگئے لیکن خدا کی شان کہ ہانڈیوں میں سے کھانا کچھ بھی کم نہیں ہوا اورصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ان کھانوں کی خوشبو اورلذت سے حیران رہ گئے۔ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو متحیر دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ یہ کھانا کہاں سے آیا ہے ؟ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا کہ نہیں یارسول اللہ ! عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ و الہ و سلم آ پ نے ارشاد فرمایا کہ یہ کھانا اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے لئے جنت سے بھیج دیا ہے۔
پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گوشہ تنہائی میں جا کر سجدہ ریزہوگئیں اوریہ دعا مانگنے لگیں کہ یا اللہ! عزوجل حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تیرے محبوب کے ایک ایک قدم کے عوض ایک ایک غلام آزاد کیا ہے لیکن تیری بندی فاطمہ کو اتنی استطاعت نہیں ہے لہٰذا اے خدا وندعالم! عزوجل جہاں تو نے میری خاطر جنت سے کھانا بھیج کر میری لاج رکھ لی ہے وہاں تو میری خاطر اپنے محبوب کے ان قدموں کے برابر جتنے قدم چل کر میرے گھر تشریف لائے ہیں اپنے محبوب کی امت کے گنہگاربندوں کو تو جہنم سے آزاد فرما دے۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جوں ہی اس دعا سے فارغ ہوئیں ایک دم ناگہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام یہ بشارت لے کر بارگاہ رسالت میں اتر پڑے کہ یا رسول اللہ! عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دعا بارگاہ الٰہی میں مقبول ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے آ پ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ہر قدم کے بدلے میں ایک ایک ہزار گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کردیا۔(جامع المعجزات (مترجم) ، ص۷۵۲)



















































