چھوٹے سے گاؤں کا رہنے والا یہ بوڑھا مصور ایسے خوبصورت مناظر تخلیق کرتا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔ اس مفلس گاؤں کے غریب غرباء تو بس یہی اور اتنا ہی جانتے تھے کہ باہر کے شہروں سے مالدار رئیس لوگ ہی آ کر اس مصور کی تصویریں خریدتے تھے اور یہ مصور بہت کماتا تھا۔ایک دن گاؤں کا ایک مفلوک الحال آدمی اس مصور کے پاس گیا اور کہا؛ تو بڑے پیسے کماتا ہے،
کیا ہی اچھا ہو کہ اپنے پیسوں سے کچھ اس گاؤں کے غریب لوگوں پر خرچ کر دیا کرے۔ اپنے گاؤں کے اس غریب قصائی کو ہی دیکھ، زیادہ مال متاع والا بھی نہیں مگر جب بھی گوشت بناتا ہے آدھے سے زیادہ تو غریبوں میں مفت ہی بانٹ دیتا ہے۔ مصور چپ کر کے سنتا رہا اور پھر خاموشی سے مسکرا دیا۔یہ غریب آدمی غصے سے تلملاتا ہوا نکلا اور گاؤں بھر میں جا کر مشہور کر دیا کہ یہ مصور ہے تو بہت ہی امیر مگر ہے انتہائی بخیل اور کنجوس۔ گاؤں والے جو پہلے اس کے پاس رئیسوں کا آنا جانا لگے رہنے سے نالاں تھے اور بھی بدظن ہوتے گئے۔کچھ عرصے کے بعد یہ بوڑھا مصور بیمار ہوا، لوگوں کی عدم توجہی کا تو پہلے ہی شکار تھا، تنہائی کی کسمپرسی میں مر گیا اور کسی کو کانوں کان خبر تک نا ہوئی۔دن گزرتے گئے اور لوگوں نے محسوس کیا کہ جو قصائی پہلے کسی غریب آدمی کو گوشت دیئے بغیر نہیں جانے دیتا تھا اس نے آہستہ آہستہ لوگوں کو گوشت دینا بالکل ہی بند کر دیا تھا۔جب لوگوں نے قصائی سے اس تبدیلی کا پوچھنا کیا تو اس نے کہا: گاؤں کا مصور اسے ہر مہینے پیسے لا کر دیتا تھا کہ میں گوشت بنا کر غریب لوگوں کو بانٹ دیا کروں،
اس کے مرنے کے بعد جب تک اس کے پیسے چلے میں بانٹتا رہا اور جب اس کے پیسے ختم ہو گئے ہیں تو میں کہاں سے لا کر بانٹوں تمہیں یہ گوشت؟چلئے ہم اسی سے ہی کچھ عبرت کا سامان نکالتے ہیں:کچھ لوگ آپ کے بارے میں انتہائی بد گمانی اور بد ظنی کا شکار رہتے ہیں اور آپ چند لوگوں کیلئے زمزم سے دھلے، پوتر اور طاہر ہوتے ہیں۔
آپ کی ذات کو نا ان لوگوں سے کوئی فائدہ پہنچنے والا ہے اور نا ہی ان لوگوں سے کوئی ضرر اور نقصان۔کسی بھی شخص کے بارے میں کبھی اس کی ظاہری بناوٹ اور حالت سے اندازے نا لگائیے، اس کے کئی باطنی اور چھپے ہوئے ایسے پہلو بھی ہو سکتے ہیں جنہیں جان کر آپ کی رائے قطعی بدل سکتی ہے۔



















































