ایک شخص بہت صالح تھا۔اللہ تعالی نے اس شخص کو بہت سے مال و متاع سے نواز رکھا تھا۔ اس شخص کی ایک عادت تھی کہ جب اس کے کھیتوں میں فصل پک کر تیار ہوجاتی یا باغوں میں پھلدار درختوں پر پھل تیارہوجاتا تو تمام غرباء اور مساکین اس کے کھیتوں اور باغوں میں پہنچ جاتے،
وہ اللہ کا بندہ ان میں سب کچھ تقسیم کر دیتا اور یوں ان کے حالات اچھے ہوجاتے۔وقت گزرتا رہا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ایک روز وہ شخص اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ اس کے تمام باغات اور زمینیں اس کے بیٹوں کو وراثت میں مل گئے ان کے باپ کی وفات کے بعد جب پہلے کی طرح کھیت فصلوں سے لہلہانے لگے ‘ باغات پھلوں سے بھر گئے تو سب نے سر جوڑ کر صلاح کی اور کہنے لگے کہ ان کا باپ ایک بیوقوف انسان تھا جو اپنی محنت کی کمائی غریبوں میں بانٹ دیا کرتا تھا، وہ ایسا ہرگز نہیں کریں گے ۔انہوں نے طے کیا کہ وہ دن کی بجائے رات کی تاریکی میں فصلوں کی کٹائی کرائیں گے۔اسی طرح باغوں کے پھل بھی رات کوہی اتروا لیں گے اس طرح نہ ہی غرباء و مساکین کو پتہ چلے گا اور نہ ہی انہیں کچھ دینا پڑے گا۔یہ پروگرام طے کرنے کے بعد وہ رات کا انتظار کرنے لگے،ادھر جونہی رات ہوئی اللہ تعالی کے حکم سے ان کے کھیتوں اور باغات میں ایک ایسی تیز گرم ہوا چلی جس نے ان کی فصلوں اور باغات کو راکھ کرکے رکھ دیا۔ کافی دیر بعد جب وہ خود اور ان کے ساتھ کٹائی کرنے والے لوگ وہاں پہنچے تو باغات اور فصلوں کی جگہ صاف میدان نظر آیا۔ کافی دیر تک تو وہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ بھٹک کر کسی اور طرف آ نکلے ہیں لیکن جب اردگرد کے نشانات سے اندازہ ہوا کہ یہ انہی کے کھیت تھے اور ان کو خاک کر دیا گیا ہے تو تب ان کو اپنے بخل اور بے ایمانی کا اندازہ ہوا۔ تب وہ پچھتانے اور رونے پیٹنے لگے لیکن اب کیا ہوسکتا تھا۔ انہوں نے لالچ میں آ کر رزق کو اپنے تک محدود کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اللہ کو ان کی یہ حرکت پسند نہ آئی اور وہ عذاب الٰہی کا شکار ہوگئے۔



















































