پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ رشید میرے بھی درباری رہے ہیں ،ان پر جوتا ۔۔۔! جاوید ہاشمی نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 5  مارچ‬‮  2017 |

ملتان(آئی این پی)سینئرسیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ عمران خان کی وجہ شہرت کرکٹ ہے ،انہیں کرکٹ کی سپورٹ کیلئے گراونڈ میں آنا چاہیے تھا،شیخ رشید میرے بھی درباری رہے ہیں لیکن ان پر جوتا پھینکنا غلط ہے ،غیر ملکی قوتیں پاکستان میں کرکٹ کو روکنا چاہتی ہیں تاہم بین الاقوامی کرکٹرز کا پاکستان آنا خوش آئند ہے،ملک میں کرکٹ کی بحالی اچھی کوشش ہے،

پی ایس ایل کے انعقاد پرنجم سیٹھی اورشہبازشریف کومبارکبادپیش کرتاہوں۔سیاسی پارٹیاں ٹکٹیں لیکرمیرے پیچھے پھرتی ہیں، اگلاالیکشن ضرورلڑوں گا۔ ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل کے ذریعے پوری دنیا میں محبت اور امن کا پیغام جائے گا۔پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پر میں نجم سیٹھی اور شہباز شریف کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کیونکہ شہباز شریف نے اس ایونٹ کے فائنل کو لاہور میں منعقد کروانے میں بہت محنت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے فائنل میچ میں آنے سے انکار کرکے پاکستانی قوم کو مایوس کیا ہے، عمران خان کی وجہ شہرت کرکٹ ہے ،انہیں کرکٹ کی سپورٹ کیلئے گراونڈ میں آنا چاہیے تھا۔جاوید ہاشمی نے شیخ رشید پر لاہور ریلوے سٹیشن پر جوتا پھینکنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شیخ رشید میرے بھی درباری رہے ہیں لیکن ان پر جوتا پھینکناغلط ہے۔شیخ رشید نے میچ دیکھنے کا اچھا فیصلہ کیا ہے۔ فائنل دیکھنے کے لیے ان کا لاہور میں جانا ایک جرات مندانہ اقدام ہے۔ کل جس شخص نے ان پر جوتا پھینکا ہے اس نے زیادتی کی ہے،انہوں نے کہا کہ کرکٹ آج کے دور میں مختلف قوموں کے مابین رابطے کا بہترین ذریعہ بن گیا ہے، پوری قوم کی پی ایس ایل کے فائنل پر نظریں لگی ہوئی ہیں۔ فائنل کی دونوں ٹیمیں کوئٹہ گلیڈی ایٹر اور پشاور زلمی میرے لیے میری دونوں آنکھوں کی طرح ہیں۔

جاوید ہاشمی نے کہاکہ آفریدی فائنل کا میچ نہیں کھیل رہا ،پر شاہد آفریدی بھی میری طرح کرکٹ میں بہت خود کش حملے کرتا ہے۔ انہوں نے کہا میرے لیے دونوں ٹیمیں برابر ہیں کیونکہ میں جب بھی ہارتا تھا تو جیتنے والے کو مبارک باد پیش کرتا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں جاوید ہاشمی کا کہنا تھا کہ قوم کو اچھی تفریح دینا ایک اچھی بات ہے اگر اس کے لیے فوج کو بھی سیکیورٹی پر بلانا پڑتا ہے تو کوئی غلط بات نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…