گزشتہ لوگوں میں ایک بادشاہ تھا،جو بہت زیادہ سرکش تھا۔ وہ اللہ کی نافرمانی میں حد سے گزرا ہوا تھا۔اس دور کے مسلمانوں نے اس ظالم وسرکش بادشاہ سے جہاد کیا اور اسے زندہ گرفتار کر لیا۔ اب اس کو قتل کرنے کے لئے مختلف قسم کی سزائیں تجویز کی جانے لگیں، بالآخر یہ طے پایا کہ اسے ایک تانبے کی بڑی دیگ میں کسی اونچی جگہ پر رکھا جائے اور اس کے نیچے آگ جلا دی جائے
تاکہ یہ یکدم مرنے کے بجائے تڑپ تڑپ کر مرے اور اس ظالم کو اس کے ظلم کی پوری پوری سزا ملے۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسے تانبے کی دیگ میں رکھ کر نیچے آگ جلا دی۔ وہ بادشاہ بہت گھبرایا اور اپنے جھوٹے خداؤں کو باری باری پکارنا شروع کردیا اور کہنے لگا:”اے میرے معبودو! میں ہمیشہ تمہاری عبادت کرتا رہا، تمہیں سجدے کرتا رہا، اب مجھے اس درد ناک عذاب سے بچاؤ۔” اسی طرح باری باری اس نے تمام جھوٹے خداؤں کو پکارا لیکن اس کا پکارنا رائیگاں گیا کیونکہ وہ تو خود اپنی حفاظت کے محتاج تھے اس کی کیا حفاظت کرتے۔ بالآخر وہ اپنے جھوٹے خداؤں سے مایوس ہو گیا اور اس نے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اور خالقِ حقیقی عزوجل کی طرف دل سے متوجہ ہوا، اور”لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ” کی صدائیں بلند کرنے لگا اور گڑگڑا کر سچے دل سے اللہ عزوجل کو پکارنے لگا۔ اللہ ربُّ العزَّت کی بارگاہ میں اس کی یہ مخلصانہ گریہ وزاری مقبول ہوئی،اوراللہ تعالیٰ نے ایسی بارش برسائی کہ ساری آگ بجھ گئی۔ پھر تیز ہوا چلی اور اسے دیگ سمیت اڑا کر لے گئی،اب وہ ہوا میں اڑنے لگا اور یہ صدا بلند کرتا رہا،” لَااِلٰہَ اِلاَّ اللہُ،لَااِلٰہَ اِلاَّاللہُ، لَا اِلٰہَ اِلاَّاللہُ۔”ْ



















































