ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ معجزہ کیسے ہوا؟

datetime 2  مارچ‬‮  2017 |

ایک حاجی صاحب کا واقعہ ہے وہ کافی بیمار تھے۔ کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھے اب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہوچکے تھے۔ ایک وقت میں آدھا سلائس ان کی غذا تھی۔ سانس لینے میں بہت دشواری کا سامنا تھا۔ نقاہت اتنی کہ بغیر سہارے کے حاجت کیلئے نہ جاسکتے تھے۔ایک دن چوہدری صاحب ان کے ہاں تشریف لے گئے اور انہیں سہارے کے بغیر چلتے دیکھا تو بہت حیران ہوئے

انہوں نے دور سے ہاتھ ہلا کر چوہدری صاحب کا استقبال کیا‘ چہل قدمی کرتے کرتے حاجی صاحب نے دس چکر لان میں لگائے‘ پھر مسکرا کر ان کے سامنے بیٹھ گئے‘ ان کی گردن میں صحت مند لوگوں جیسا تناؤ تھا۔ چوہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا؟ کوئی دوا‘ کوئی دعا‘ کوئی پیتھی‘ کوئی تھراپی۔ آخر یہ کمال کس نے دکھایا۔ حاجی صاحب نے فرمایا میرے ہاتھ میں ایک ایسا نسخہ آیا ہے کہ اگر دنیا کو معلوم ہوجائے تو سارے ڈاکٹر‘ حکیم بیروزگار ہوجائیں۔ سارے ہسپتال بند ہوجائیں اور سارے میڈیکل سٹوروں پر تالے پڑجائیں۔ چوہدری صاحب مزید حیران ہوئے کہ آخر ایسا کونسا نسخہ ہے جو ان کے ہاتھ آیا ہے۔ حاجی صاحب نے فرمایا کہ میرے ملازم کی والدہ فوت ہوگئی‘ میرے بیٹوں نے عارضی طورپر ایک چھ سات سالہ بچہ میری خدمت کیلئے دیا‘ میں نے ایک دن بچے سے پوچھا کہ آخر کس مجبوری کی بنا پر تمہیں اس عمر میں میری خدمت کرنا پڑی‘بچہ پہلے تو خاموش رہا پھر سسکیاں بھر کر بولا کہ ایک دن میں گھر سے باہر تھا‘میری امی‘ ابو‘ بھائی‘ بہن سب سیلاب میں بہہ گئے۔ میرے مال مویشی ڈھور ڈنگر‘ زمین پر رشتہ داروں نے قبضہ کرلیا۔اب دنیا میں میرا کوئی نہیں۔ اب دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے عوض آپ کی خدمت پر مامور ہوں۔ یہ سنتے ہی حاجی صاحب کا دل پسیج گیا اور پوچھا بیٹا کیا تم پڑھوگے بچے نے ہاں میں سرہلا دیا۔

حاجی صاحب نے منیجر سے کہا کہ اس بچے کو شہر کے سب سے اچھے سکول میں داخل کراؤ۔ بچے کا داخل ہونا تھا کہ اس کی دعاؤں نے اثر کیا‘ قدرت مہربان ہوگئی‘ میں نے تین سالوں کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا‘ سارے ڈاکٹر اور گھروالے حیران تھے۔ اگلے روز اس یتیم بچے کو ہاسٹل میں داخلہ دلوایا اور بغیر سہارے کے ٹائلٹ تک چل کرگیا‘ میں نے منیجر سے کہا کہ شہر سے پانچ ایسے اور بچے ڈھونڈ کرلاؤ جن کا دنیا میں کوئی نہ ہو۔

پھر ایسے بچے لائے گئے انہیں بھی اسی سکول میں داخل کرادیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور آج میں بغیر سہارے کے چل رہا ہوں۔ سیر ہوکر کھاپی رہا ہوں اور قہقہے لگارہا ہوں۔ حاجی صاحب سینہ پھلا کر گلاب کی کیاریوں کی طرف چل دئیے اور فرمایا میں اب نہیں گروں گا جب تک کہ یہ بچے اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہوجاتے۔ حاجی صاحب گلاب کی کیاریوں کے قریب رک گئے اور ایک عجیب فقرہ زبان پر لائے :-’’قدرت‘ یتیموں کو سائے دینے والےدرختوں کے سائے لمبے کردیا کرتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…