ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

تین کی کسوٹی

datetime 1  مارچ‬‮  2017 |

افلاطون اپنے اُستاد سقراط کے پاس آیا اور کہنے لگا “آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں غلط بیانی کر رہا تھا، سقراط نے مسکرا کر پوچھا وہ کیا کہہ رہا تھا۔۔۔؟ افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا۔۔۔! اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا تم یہ بات سنانے سے پہلے اِسے تین کی کسوٹی پر رکھو،

اس کا تجزیہ کرو، اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمہیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے، یا نہیں؟ افلاطون نے عرض کیا یا استاد! تین کی کسوٹی کیا ہے؟ سقراط بولا ،کیا تمہیں یقین ہے تم مجھے جو یہ بات بتانے لگے ہو یہ بات سو فیصد سچ ہے۔۔۔؟ افلاطون نے فوراً انکار میں سر ہلا دیا۔ سقراط نے ہنس کر کہا ،پھر یہ بات بتانے کا تمہیں اور مجھے کیا فائدہ ہو گا؟ افلاطون خاموشی سے سقراط کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا، سقراط نے کہا یہ پہلی کسوٹی تھی۔ اب دوسری کسوٹی کی طرف آتے ہیں۔ مجھے تم جو یہ بات بتانے لگے ہو کیا یہ اچھی بات ہے۔۔۔؟ افلاطون نے انکار میں سر ہلا کر جواب دیا۔ جی! نہیں یہ بُری بات ہے۔۔۔! سقراط نے مسکرا کر کہا کیا تم یہ سمجھتے ہو تمہیں اپنے اُستاد کو بُری بات بتانی چاہیے۔۔؟ افلاطون نے پھر انکار میں سر ہلا دیا۔ سقراط بولا ،گویا یہ بات دوسری کسوٹی پر بھی پوری نہیں اترتی۔ افلاطون خاموش رہا۔۔! سقراط نے ذرا سا رک کر کہا اور آخری کسوٹی، یہ بتاؤ یہ جو بات تم مجھے بتانے لگے ہو کیا یہ میرے لیے فائدہ مند ہے۔۔؟ افلاطون نے انکار میں سر ہلایا اور عرض کیا یا اُستاد! یہ بات ہرگز ہرگز آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔۔! سقراط نے ہنس کر کہا اگر یہ بات میرے لیے فائدہ مند نہیں، تو پھر اس کے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔۔؟ افلاطون پریشان ہو کر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ سقراط نے گفتگو کے یہ تین اصول آج سے ہزاروں سال قبل وضع کر دیئے تھے، اُس کے تمام شاگرد اس پر عمل کرتے تھے۔ وہ گفتگو سے قبل ہر بات کو تین کی کسوٹی پر پرکھتے تھے۔۔! 1

۔ کیا یہ بات سو فیصد درست ہے؟2۔ کیا یہ بات اچھی ہے؟ اور3۔ کیا یہ بات سننے والے کے لیے مفید ہے؟ اگر وہ بات تین کی کسوٹی پر پوری اترتی تھی، تو وہ بے دھڑک بول دیتے تھے اور اگر وہ کسی کسوٹی پر پوری نہ اترتی یا پھر اس میں کوئی ایک عنصر کم ہوتا، تو وہ خاموش ہو جاتے تھے۔

آج ہمارے معاشرے کو بھی اِس تین کی کسوٹی کی بہت ضرورت ہے۔ جہاں نکتہ چینی، چغل خوری، تہمت بیانی اور گمراہ کن باتوں کا دور دورہ ہے اور ہر فرد دوسرے کے لیے زبان کے تیر چلانے کی تاک میں بیٹھا ہوا ہے۔ اور جس کی وجہ سے بہت سے افسوسناک واقعات جنم لے رہے ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…