ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

جب باپ بنو گے تو تمہں اس سوال کا جو اب مل جائے گا

datetime 28  فروری‬‮  2017 |

امّاں گھر کے کام میں مصروف تھیں اور ابّا جی صحن میں چارپائی پہ آنکھیں بند کرکے لیٹے تھے۔ میں حسب معمول ان کے پاس جا کے کھڑا ہوگیا انکی نظریں میرے اوپر پڑیں تو انھوں نے مجھے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا اور بولے کے میں کھونٹی پہ لٹکی انکی قمیص کی جیب سے اپنا روزانہ کا جیب خرچ ” ایک آنہ ” نکال لوں۔ایسا پہلے بھی کئی بار ہو چکا تھا کہ وہ مجھے کہہ دیتے اور میں ایک آنہ انکی جیب سے نکال لیتا تھا۔

پر آج جب میں نے انکی جیب میں ہاتھ ڈالا تو میرے ہاتھ تین آنے لگے۔ ان میں سے ایک آنہ واپس ڈال کے دو اپنے پاس رکھ لیے۔ میں جیسے کمرے سے نکلا تو میرے باپ نے مجھے اپنی طرف بلایا مجھ سے کچھ پوچھے بنا میری جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک زور دار تھپڑ میرے گال پہ رسید کیا۔ وہ تھپڑ اتنا زور دار تھا کہ اسکی آواز کئی سال تک میرے کانوں میں گونجتی رہی، پھر کبھی میں ایسا کچھ کرنے کا سوچ نہیں پایا۔ اس دن مجھے میرا باپ دنیا کا سب سے ظالم باپ لگا۔ کئی بار میرے دل میں یہ سوال اٹھا کہ آخر انھیں اس بات کا پتہ کیسے چلا تھا۔ جب میں جوان ہوا اور میرا باپ ضعیف ہو چکا تھا ۔ ایک دن پاؤں دباتے دباتے میں نے ان سے پوچھ ہی لیا کہ اس دن انھیں کیسے پتا چلا کہ میں نے ایک کی جگہ دو آنے انکی جیب سے لیے۔انھوں نے بس ایک ہی جواب دیا ‘جب باپ بنو گے تو تمہں اس سوال کا جوب مل جائے گا’ پھر وقت بدلا اور میں باپ بنا۔ میرے اور میرے بیٹے کے حالات میں بہت فرق تھا۔ دنیا جدید ہوئی تو بڑوں کو بیوقوف بنانا آسان ہوگیا تھا۔ ہر بار جب میرا بیٹا گھر میں داخل ہوتا تو میں اس سے کئی سوال کرتا اور وہ ہر سوال کا تسلی امیز جواب دے کے آگے بڑھ جاتا تھا۔ اور میں اسکی چال دیکھ کے مسکرا دیتا۔ وہ اس بات پہ خوش ہوتا کہ آج پھر سے وہ مجھے بیوقوف بنانے میں کامیاب ہو گیا اور میں اس بات پہ خوش ہوتا کہ مجھے میرے بچپن کے سوال کا جواب مل گیا۔

اور میں خود سے کہتا ” جب باپ اپنے بیٹے کو چلنا سیکھاتا ہے تو وہ اسکے ایک قدم سے دوسرے قدم تک کے فاصلے کا حساب رکھتا ہے اور جب بولنا سیکھاتا ہے تو ہونٹ کے ہلنے سے پلکوں کے جھپکنے تک کا حساب بھی اسکے پاس ہوتا ہے، ادھر حساب میں گڑ بڑ ہوئی نہیں کہ وہ بھانپ لیتا ہے اب بیٹا کس رخ کو چل رہا ہے “

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…