ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پراسرار خاتوں کی آواز نے پانی میں ڈوبے بچے کی جان بچا لی

datetime 13  مارچ‬‮  2015 |

نیویارک (نیوز ڈیسک) مغربی معاشرے میں مذہب اور روحانیت جیسی باتوں پر عموماً یقین نہیں کیا جاتا لیکن گزشتہ جمعہ کے روز پیش آنے والے ایک حادثے نے اس معاشرے کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ سالٹ لیک شہر میں ایک نوجوان خاتون اپنے والدین سے ملنے کے بعد اپنے گھر لوٹ رہی تھیں کہ راستے میں ان کی گاڑی سپینش فورک دریا میں جاگری۔ گاڑی دریا کے کنارے کے قریب گری اور اس حادثے میں 25سالہ خاتون لین گروس کی موت واقع ہوگئی البتہ جب دوسرے دن گاڑی کا پتہ چلا تو اس میں مرنے والی خاتون کی ڈیڑھ سالہ بیٹی زندہ موجود تھی۔
حادثہ رات ساڑھے دس بجے پیش آیا جبکہ اس کی خبر تقریباً 14گھنٹے بعد ہفتے کے روز ہوئی۔ چار پولیس اہلکاروں نے برفیلے پانی میں اتر کر گاڑی کو سیدھا کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بچی ساری رات منجمد کردینے والی سردی میں اپنی سیٹ کے ساتھ الٹی لٹکی رہی تھی۔ اس کی ماں کی موت ہوچکی تھی مگر وہ بے ہوش تھی۔
اگرچہ یہ بات بھی ناقابل یقین ہے کہ 14 گھنٹے برفانی رات میں گزارنے کے باوجود یہ بچی زندہ ہے مگر اس سے بھی حیران کن بات یہ ہے کہ چاروں پولیس اہلکار اس بات پر متفق ہیں کہ انہیں گاڑی میں سے مدد کیلئے پکارا گیا تھا۔ ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ خاتون کی موت کئی گھنٹے پہلے ہی ہوچکی تھی اور یہ ممکن نہیں کہ وہ مدد کیلئے پکارتی، لیکن چاروں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انہیں مدد کیلئے آواز آئی تھی۔

تیس سالہ اہلکار بیڈوس کا کہنا ہے کہ انہیں بچی کی ماں نے موت کے بعد اپنی بیٹی کی مدد کیلئے پکارا یا کسی فرشتے نے انہیں ننھی بچی کو بچانے کیلئے آواز دی، وہ نہیں جانتے، لیکن وہ اور ان کے تینوں ساتھی جانتے ہیں کہ انہیں کسی آواز نے حادثے کا شکار ہونے والی کارکی طرف بلایا۔ پولیس اہلکاروں کے بیان نے ہر سننے والے کو حیران کردیا ہے اور خصوصاً اس بات پر حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے کہ چاروں اہلکاروں کو ایک ہی آواز کیسے سنائی دی اور یہ کس کی آواز تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…