پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

این جی او میں کام کرنیوالی حنا شاہ نواز کے قتل کا ڈراپ سین،4ملزم گرفتار،افسوسناک انکشافات

datetime 21  فروری‬‮  2017 |

کوہاٹ (این این آئی)کوہاٹ پولیس نے رواں ماہ کے آغاز میں قتل ہونے والی این جی او ورکر حنا شاہ نواز کے قتل کے مرکزی ملزم کو 3 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا۔ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) کوہاٹ جاوید اقبال نے بتایا کہ مرکزی ملزم ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی ٗ قتل میں ملوث اس کے 3 ساتھیوں کو کوہاٹ سے گرفتار کیا گیا۔یاد رہے کہ حنا شاہ نواز کو رواں ماہ 6 فروری کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا اور اس حوالے سے

رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ انھیں مبینہ طور پر ان کے کزن نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔پولیس نے واقعہ کے بعد بتایا تھا کہ حنا کے کزن محبوب عالم نے کوہاٹ کے علاقے استارزئی میں مبینہ طور پر انھیں 4 گولیاں مار کر قتل کیا۔رپورٹس کے مطابق حنا نے ایم فل کر رکھا تھا وہ اسلام آباد میں ایک این جی او سے منسلک تھیں اور ماہانہ 80 ہزار روپے کما رہی تھیں اور اپنی والدہ اور بھابی کی کفالت ان کے ذمہ تھی کیونکہ ان کے والد اور بھائی کا انتقال ہوچکا تھا۔خاندانی ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ حنا کا کزن ان کی ملازمت سے خوش نہیں تھا اور انھیں متعدد مرتبہ اس سے منع کرچکا تھاتاہم بعدازاں کیس نے اْس وقت نیا موڑ اختیار کرلیا تھا جب کیس میں نامزد مرکزی ملزم محبوب عالم نے سوشل میڈیا پر آکر اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا خاندانی ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ حنا کا کزن ان کی ملازمت سے خوش نہیں تھا اور انھیں متعدد مرتبہ اس سے منع کرچکا تھاتاہم بعدازاں کیس نے اْس وقت نیا موڑ اختیار کرلیا تھا جب کیس میں نامزد مرکزی ملزم محبوب عالم نے سوشل میڈیا پر آکر اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا اور کہا کہ انھوں نے اپنی کزن کو قتل نہیں کیا بلکہ اصل مجرم کوئی اور ہے تاہم 4 ملزمان کی گرفتاری کے بعد پولیس کا کہنا ہے کہ محبوب عالم بھی کیس میں مرکزی ملزم نامزد ہے اور اس کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…