منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

صدرٹرمپ ذہنی مریض قرار !

datetime 16  فروری‬‮  2017 |

نیویارک( آن لائن ) امریکا کے 35 ماہرینِ نفسیات اورمعالجین کا ایک مشترکہ خط نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ذہنی مریض اور صدارت کے لیے نااہل ہیں۔یہ خط 9 فروری کے روز اسی اخبار میں سیاسی تجزیہ نگارچارلس ایم بلو کے ایک کالم کی تائید میں لکھا گیا ہے جس میں چارلس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے صدر نہیں بلکہ ’’فاتح‘‘ بننا چاہتے ہیں۔13 فروی کو شائع شدہ اس خط میں 35 امریکی نفسیاتی ماہرین اورمعالجین نے یہی خیالات آگے بڑھاتے ہوئے

 

مشترکہ مؤقف پیش کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے الفاظ اورطرزِ عمل، دونوں سے ثابت کررہے ہیں کہ وہ دوسروں کیلیے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے اور ان میں اختلافِ رائے برداشت کرنے کی بالکل بھی صلاحیت نہیں۔ علاوہ ازیں وہ اپنے مخالفین کا منہ بند کرنے اورانہیں کچلنے کیلیے کسی بھی حد تک جانے پر آمادہ رہتے ہیں جو نفسیاتی طور پر بیمار ہونے کی علامات میں شامل ہیں۔اس خط میں امریکی نفسیاتی ماہرین نے امریکن سائیکیٹرک ایسوسی ایشن کے 1973 میں منظورکردہ رضاکارانہ ’گولڈواٹررول‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس اصول کی وجہ سے امریکی نفسیاتی معالجین کی سب سے بڑی انجمن نے مشہور شخصیات کی دماغی حالت کے بارے میں خاموش رہنے کی پالیسی پر عمل جاری رکھا ہوا ہے لیکن اس نازک وقت پر کچھ نہ کہنا امریکہ کیلیے بدترین نقصان کی وجہ بن سکتا ہے۔ان تمام شواہد کومدنظر رکھتے ہوئے اس خط کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی خراب دماغی حالت کی بناء پر امریکی صدر رہنے کیلیے نااہل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…