پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

امریکہ مجبور ہو گیا ۔۔ پاکستان سے مدد طلب کر لی

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں تعینات اعلی ترین امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسننے کہا ہے کہ روس، پاکستان اور ایران جنگ سے تباہ حال افغانستان میں اپنے اپنے مقاصد کے لیے کوشاں ہیں جس سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف لڑائی پیچیدہ ہو رہی ہے، ہم پاکستان سے تمام دہشت گردوں کے خلاف تعاون چاہتے ہیں،

ہمیں پاکستان میں بیرونی (دہشت گردوں کی)پناہ گاہوں پردبائو ڈالنا ہے، دہشت گردوں کا خاتمہ خود پاکستان کے لیے اس کے ہاں ہونے والے دہشت گرد حملوں میںکمی لائے گا،ہم سب پاکستان کے رویے میں تبدیلی کی امید کرتے ہیں، یہ خود پاکستان کے مفاد میں ہے، طالبان میں ایسے عناصر ہیں جو ملک میں حقیقت پسندانہ امن کے بارے میں سوچ رکھتے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں جنرل جان نکولسن کا کہنا تھا روس، پاکستان اور ایران جنگ سے تباہ حال اس ملک میں اپنے اپنے مقاصد کے لیے کوشاں ہیں ہمیں بیرونی عناصر پر تشویش ہے ۔جنرل نکولسن نے روس کے طالبان کے ساتھ رابطوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ روس طالبان کو جائز قرار دینے اور ان کی حمایت کرتا رہا ہے۔۔دریں اثنا طالبان دہشت گردوں کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ روس طالبان اور منشیات کی تجارت سے وابستہ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔جنرل نکولسن کا بھی کہنا تھا کہ طالبان میں ایسے

عناصر ہیں جو ملک میں حقیقت پسندانہ امن کے بارے میں سوچ رکھتے ہیں۔ ان کے بہت سے راہنما افغانوں کے لیے بہتر زندگی دیکھتے ہیں۔امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ دوسری ایران مغربی افغانستان میں انتہا پسندوں کی حمایت کر رہا ہے۔یہ صورتحال روس کے معاملے سے زیادہ پیچیدہ ہے۔انھوںنے کہاکہ ایران اور افغانستان میں ایک تعلق کی ضرورت ہے۔جنرل نکولسن کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سے تمام دہشت گردوں کے خلاف تعاون چاہتے ہیں۔ ہمیں پاکستان میں بیرونی (دہشت گردوں کی)پناہ گاہوں پردبائو ڈالنا ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ خود پاکستان کے لیے اس کے ہاں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں لائے گا۔ہم سب پاکستان کے رویے میں تبدیلی کی امید کرتے ہیں۔ یہ خود پاکستان کے مفاد میں ہے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…