منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

امریکہ مجبور ہو گیا ۔۔ پاکستان سے مدد طلب کر لی

datetime 13  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں تعینات اعلی ترین امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسننے کہا ہے کہ روس، پاکستان اور ایران جنگ سے تباہ حال افغانستان میں اپنے اپنے مقاصد کے لیے کوشاں ہیں جس سے دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف لڑائی پیچیدہ ہو رہی ہے، ہم پاکستان سے تمام دہشت گردوں کے خلاف تعاون چاہتے ہیں،

ہمیں پاکستان میں بیرونی (دہشت گردوں کی)پناہ گاہوں پردبائو ڈالنا ہے، دہشت گردوں کا خاتمہ خود پاکستان کے لیے اس کے ہاں ہونے والے دہشت گرد حملوں میںکمی لائے گا،ہم سب پاکستان کے رویے میں تبدیلی کی امید کرتے ہیں، یہ خود پاکستان کے مفاد میں ہے، طالبان میں ایسے عناصر ہیں جو ملک میں حقیقت پسندانہ امن کے بارے میں سوچ رکھتے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں جنرل جان نکولسن کا کہنا تھا روس، پاکستان اور ایران جنگ سے تباہ حال اس ملک میں اپنے اپنے مقاصد کے لیے کوشاں ہیں ہمیں بیرونی عناصر پر تشویش ہے ۔جنرل نکولسن نے روس کے طالبان کے ساتھ رابطوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ روس طالبان کو جائز قرار دینے اور ان کی حمایت کرتا رہا ہے۔۔دریں اثنا طالبان دہشت گردوں کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ روس طالبان اور منشیات کی تجارت سے وابستہ دہشت گردی کی حمایت کر رہا ہے۔جنرل نکولسن کا بھی کہنا تھا کہ طالبان میں ایسے

عناصر ہیں جو ملک میں حقیقت پسندانہ امن کے بارے میں سوچ رکھتے ہیں۔ ان کے بہت سے راہنما افغانوں کے لیے بہتر زندگی دیکھتے ہیں۔امریکی کمانڈر کا کہنا تھا کہ دوسری ایران مغربی افغانستان میں انتہا پسندوں کی حمایت کر رہا ہے۔یہ صورتحال روس کے معاملے سے زیادہ پیچیدہ ہے۔انھوںنے کہاکہ ایران اور افغانستان میں ایک تعلق کی ضرورت ہے۔جنرل نکولسن کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان سے تمام دہشت گردوں کے خلاف تعاون چاہتے ہیں۔ ہمیں پاکستان میں بیرونی (دہشت گردوں کی)پناہ گاہوں پردبائو ڈالنا ہے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا خاتمہ خود پاکستان کے لیے اس کے ہاں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں لائے گا۔ہم سب پاکستان کے رویے میں تبدیلی کی امید کرتے ہیں۔ یہ خود پاکستان کے مفاد میں ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…