پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

افغانستان پاکستان کے خلاف کیا خطرناک سازش کررہا ہے جو اگر پوری ہو گئی تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔۔ دھماکہ خیز انکشاف

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے بعد اب افغانستان بھی پاکستان کو صحرا بنانے کی سازش میں شامل ہو گیا ہے جس کا نوٹس کیا جائے۔بھارت درجنوں ڈیم بنا چکا ہے

جبکہ سینکڑوں زیر تعمیر ہیں جس سے دونوں ممالک کے مابین 18.5 ملین ایکڑ فٹ کی تقسیم کا فارمولا متوازن نہیں رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کی نتیجہ جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اب افغان حکومت سات ارب ڈالر کی لاگت سے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زیادہ ڈیم بنا رہی ہے جس سے دریائے کابل کے پانی میں پاکستان کا حصہ سترہ فیصد کم ہو جائے گا جس سے عوام،صنعت اورزراعت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ یہ ڈیم پانچ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کے حامل ہونگے جس سے ڈیورنڈ لائن کے اس طرف صوبہ خیبر پختوان خواہ اور فاٹا میں رہنے والی پختون آبادی بری طرح متاثر ہو گی۔گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی پہلو نمایاں رہا ہے جس سے دونوں ممالک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ دونوں ممالک کی پشتون آبادی جو پانچ کروڈ سے زیادہ ہے

میں سے بہت افراد بری طرح متاثر ہو ہوئے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف کی آبادی اس سے پہلے ہی استحصال، مواقع کی کمی، قدرتی آفات اور فوجی آپریشنز کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے اور انکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔دونوں ممالک کے مابین اعتماد سازی کی ضرورت ہے اور اگر اس مسئلے کو دونوں ملکوں نے مل کر حل نہ کیا گیا عوام کے مصائب اور دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا جو کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…