پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان پاکستان کے خلاف کیا خطرناک سازش کررہا ہے جو اگر پوری ہو گئی تو پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔۔ دھماکہ خیز انکشاف

datetime 10  فروری‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے آبی جارحیت کے بعد اب افغانستان بھی پاکستان کو صحرا بنانے کی سازش میں شامل ہو گیا ہے جس کا نوٹس کیا جائے۔بھارت درجنوں ڈیم بنا چکا ہے

جبکہ سینکڑوں زیر تعمیر ہیں جس سے دونوں ممالک کے مابین 18.5 ملین ایکڑ فٹ کی تقسیم کا فارمولا متوازن نہیں رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جس کی نتیجہ جنگ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ اب افغان حکومت سات ارب ڈالر کی لاگت سے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زیادہ ڈیم بنا رہی ہے جس سے دریائے کابل کے پانی میں پاکستان کا حصہ سترہ فیصد کم ہو جائے گا جس سے عوام،صنعت اورزراعت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے۔ یہ ڈیم پانچ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کے حامل ہونگے جس سے ڈیورنڈ لائن کے اس طرف صوبہ خیبر پختوان خواہ اور فاٹا میں رہنے والی پختون آبادی بری طرح متاثر ہو گی۔گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کشیدگی کی پہلو نمایاں رہا ہے جس سے دونوں ممالک کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ چکا ہے جبکہ دونوں ممالک کی پشتون آبادی جو پانچ کروڈ سے زیادہ ہے

میں سے بہت افراد بری طرح متاثر ہو ہوئے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف کی آبادی اس سے پہلے ہی استحصال، مواقع کی کمی، قدرتی آفات اور فوجی آپریشنز کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے اور انکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔دونوں ممالک کے مابین اعتماد سازی کی ضرورت ہے اور اگر اس مسئلے کو دونوں ملکوں نے مل کر حل نہ کیا گیا عوام کے مصائب اور دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا جو کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…