ہفتہ‬‮ ، 07 مارچ‬‮ 2026 

مریخ پر مصنو عی سانس پیدا کرنے کا منصوبہ

datetime 12  مارچ‬‮  2015 |

مریخ(نیوز ڈیسک ) انسانوں کی آبادکاری کی باتیں عشروں سے ہورہی ہیں، مگر اس تصور کو ممکن بنانے کی جانب حقیقی معنوں میں پیش رفت کا سلسلہ گذشتہ چند برسوں سے شروع ہوا ہے۔انسانی بقا کے لیے بنیاد شرط آکسیجن کی موجودگی ہے جو مریخ پر نہیں پائی جاتی۔ سائنس داں اب سسرخ سیارے پر مصنوعی طریقے سے آکسیجن پیدا کرنے پر غور کررہے ہیں۔ اس ضمن میں اولین کوشش کے طور پر ایک آلہ بنایا گیا ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں تبدیل کرتا ہے۔مریخ کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑی مقدار میں پائی جاتی ہے جب کہ آکسیجن نہ ہونے کے برابر ہے۔ موکسی نامی یہ آلہ مریخ کی سر زمین پر موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کو حیات بخش آکسیجن میں تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا۔ 2020ءمیں ناسا کا نیا مشن مریخ کے لیے روانہ ہوگا۔ اس مشن کے ساتھ موکسی کو بھی سرخ سیارے کی سرزمین پراتارا جائے گا۔” موکسی“ کی تیاری کے منصوبے کے نگراں ڈاکٹر جیفری ہوفمین ہیں۔ وہ سائنس داں ہونے کے ساتھ ساتھ سابق خلانورد بھی ہیں۔ڈاکٹر جیفری کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا جب مریخ پر آکسیجن پیدا کی جائے گی۔مریخ کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ 96 فی صد جب کہ آکسیجن کی مقدار0.2 فی صد سے بھی کم ہے۔ ڈاکٹر جیفری اور ان کی ٹیم کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آکسیجن میں بدلنے کے لیے پ±رامید ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح سے جنم لینے والی آکسیجن 99.6 فیصد خالص ہوگی۔موکسی جدید ترین آلہ ہے جو اپنے اطراف سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اکٹھی کرکے اس کے مالیکیولوں میں سے آکسیجن کے ایٹموں کو علیٰحدہ کرلیتا ہے اور پھر انھیں یکجا کرکے O2 یعنی آکسیجن کا مالکیول بناتا ہے۔ اس عمل کے دوران کاربن مونوآکسائیڈ بائی پروڈکٹ کے طور پر پیدا ہوگی جسے واپس فضا میں چھوڑ دیا جائے گا۔ڈاکٹر جیفری کے مطابق یہ ٹیکنالوجی نہ صرف سانس لینے کے لیے ہوا مہیا کرے گی بلکہ مستقبل میں خلائی مشنوں کے لیے ایندھن بھی فراہم کرے گی۔ مریخ کی جانب انسان بردار مشن روانہ کرنے سے پہلے ناسا زمین کے پڑوسی کی جانب ایک بڑا خالی راکٹ اور موکسی کا بڑا ورڑن روانہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ موکسی کو خالی راکٹ کو آکسیجن سے بھرنے میں ڈیڑھ برس کا عرصہ لگ جائے گا۔ پھر جب خلانورد مریخ پر ا±تریں گے تو انھیں زمین پر واپس لانے کے لیے مائع آکسیجن سے بھرا ایک راکٹ پہلے ہی وہاں موجود ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…