بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

امریکہ کی ترقی کو ریسورس گیئر،خوف کی فضا میں اضافہ،کانگریس کے رکن کی حیرت انگیز پیش گوئیاں

datetime 4  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی ریاست انڈیانا سے تعلق رکھنے والے کانگرس رکن آندرے کارسن نے کہا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلمان اکثریت والے سات ملکوں کے شہریوں پر امریکہ میں داخلہ پر عارضی پابندی کے حکم نامے کے طویل المدتی اثرات ہونگے اور اس سے داعش اور القائدہ جیسی تنظیموں کو مزید بھرتیوں میں ممکنہ طور پر مدد ملے گی۔

امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں صدر ٹرمپ کے سفری پابندی والے حالیہ ایزیکٹیو آرڈر پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کارسن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے خوف بڑھے گا اور امریکہ بہت سال پیچھے چلا جائے گا کیونکہ یہ ایک غیر امریکی اقدام ہے اور یہ حب الوطنی پر مبنی نہیں ہے۔ٹرمپ کے مطابق یہ پابندی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا اقدام نہیں ہے، برعکس اس کے انھوں نے اسے احتیاطی اقدامات کے سلسلے کا پہلا قدم قرار دیا ہے، جس کا مقصد امریکہ کو محفوظ بنانا ہے۔صدر ٹرمپ نے جس انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے تھے اس کے تحت آئندہ 120 روز کے لیے پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر قدغن جب کہ ایران، عراق، شام، صومالیہ، سوڈان، لیبیا اور یمن کے شہریوں کے امریکہ آنے پر 90 دن کی پابندی عائد کی گئی۔کانگرس رکن کا کہنا تھا کہ اس سے وہ لوگ متاثر ہوں گے جو یہاں خاندانوں کی شکل میں آئے ہیں۔ ان مسلمانوں میں وکیل، ڈاکٹر، پولیس افسر اور کاروبار کرنے والے لوگ بھی ہیں جو اس اقدام کے بعد امریکہ جیسے ملک میں اکیلے رہ جائیں گے جو ہر طرح کے لوگوں کے لئے کھلا ہے۔ہوم لینڈ سکیورٹی کے وزیر، جان کیلی نے کہا ہے کہ یہ سفری پابندی کا معاملہ نہیں ہے،

یہ عارضی بندش ہے جس سے مہاجرین سے متعلق مروجہ ضوابط اور ویزا کے نظام کی کڑی نگرانی کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ نئے حکم نامے کا مقصد دہشت گردوں کو ملک سے دور رکھنا ہے۔ لیکن اس بات پر زور دیا کہ یہ مسلمانوں پر بندش کا معاملہ نہیں ہے۔لیکن اس فرمان کے نافذ ہونے پر خاص طور پر امریکہ کے مختلف ہوائی اڈوں پر اس وقت صورتحال الجھن کا شکار نظر آئی

جب کئی ایسے افراد جن کے پاس امریکہ میں مستقل رہائش کا “گرین کارڈ” بھی تھا، انھیں مزید پوچھ گچھ کے لیے حکام نے روک لیا۔کانگرس کے رکن آندرے کارسن کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے سے مسلمان ملکوں اور دنیا کو یہ پیغام ملتا ہے کہ ہم آپ پر اعتبار نہیں کرتے، ہم امن و سلامتی کے تعلقات میں آپ کو اہم نہیں سمجھتے اور ان اختلافات کے خاتمے میں آپ کے کسی کردار کو نہیں مانتے

جو گذشتہ کچھ سالوں سے درپیش ہیں۔ایران، شام اور سوڈان دہشت گردوں کی معاونت کرنے والی ریاستوں کی امریکی محکمہ خارجہ کی فہرست میں شامل ہیں جب کہ عراق، لیبیا، یمن اور صومالیہ کا شمار ان ملکوں کی فہرست میں ہوتا ہے جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔دوسری طرف اس حکم نامے کے خلاف امریکہ بھر میں ہزاروں افراد سراپا احتجاج ہیں اور ڈیموکریٹس اس پابندی کے خلاف قانون لانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…