جمعرات‬‮ ، 29 جنوری‬‮ 2026 

امریکی انتظامیہ اور ٹرمپ کے درمیان پراسرار تعلق کا نیا اشاریہ سامنے آگیا

datetime 5  فروری‬‮  2017 |

واشنگٹن (آئی این پی)امریکی انتظامیہ اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کاروبار کے درمیان پراسرار تعلق کا ایک نیا اشاریہ سامنے آگیا ،امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ کے بیٹے ایرک ٹرمپ نے جنوری کے اوائل میں ذاتی کاروبار کے سلسلے میں یوراگوائے کا دورہ کیا۔ نجی نوعیت کے اس دورے نے امریکی ٹیکس دہندگان پر تقریبا 1 لاکھ ڈالر کا بوجھ ڈال دیا۔ ایرک کے دورے کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ آرگنائزیشن کا فروغ تھا

 

اور یہ اخراجات صدر کے بیٹے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ضروری تھے۔امریکی میڈیا تفصیل کے ساتھ اس واقعے کو منظر عام پر لا رہا ہے جس نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اپنے کاروباری معاملات کو مکمل طور پر علاحدہ رکھنے کے حوالے سے ٹرمپ کی جانب سے مزید فیصلوں اور اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی کمپنیوں کے انتظامی امور سے دست بردار ہو کر انہیں اپنے دونوں بیٹوں ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ (جونیئر) کے حوالے کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کے صدر کا مشیر مقرر ہونے کے بعد ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا ٹرمپ نے اپنی کمپنی کی انتظامیہ سے علاحدگی کا فیصلہ کیا تھا۔یوراگوائے کے دو روزہ دورے میں ایرک ٹرمپ نے متعدد کاروباری شخصیات اور پراپرٹی کے میدان میں قدآور شخصیات سے ملاقات کی۔ اس دوران یوراگوائے کے ساحلوں پر پرتکلف ظہرانوں اور عشائیوں کا بھی اہتمام ہوا۔ایرک کے دورے کے اخراجات جن کا بوجھ امریکی خزانے اور ٹیکس دہندگان نے برداشت کیا۔ ان اخراجات میں صدر کے بیٹے کی حفاظت پر مامور سیکرٹ سروس کے اہل کاروں کے قیام پر 88320 ڈالر خرچ ہوئے جب کہ یوراگوائے میں امریکی سفارت خانے کے اہل کاروں کی ایرک کے ساتھ

 

موجودگی اور ان کی آمد ورفت پر 9510 ڈالر صرف ہوئے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایرک کے لیے ہوٹل میں بک کرائے جانے والے کمروں کا بل امریکی وزارت خارجہ نے ادا کیا۔ایرک ٹرمپ کی ترجمان نے بلوں میں سامنے آنے والے اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح وہائٹ ہاس کے ترجمان نے بھی اس موضوع پر بات کرنے سے منع کر دیا۔واشنگٹن یونی ورسٹی میں قانون کی پروفیسر اور حکومتی اخلاقیات کے

 

امور کی ماہر کیتھلین کلارک نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے باور کرایا کہ ایرک ٹرمپ کا دورہ اس پراسراریت اور ابہام کی واضح مثال ہے جو ابھی تک ٹرمپ خاندان کے اقتصادی مفادات اور سرگرمیوں کو حکومتی انتظامیہ کے ساتھ نتھی کیے ہوئے ہے۔ کلارک کے مطابق دورے میں نجی مفادات کو پورا کرنے کے واسطے عوامی وسائل کا استعمال کیا گیا۔

موضوعات:



کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…