اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

عرب شہزادوں کی عیاشی منظر عام پر آگئی،غریب مسلم ممالک پر سکتہ طاری

datetime 3  فروری‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عقابوں کے ہوائی جہاز پر سفر کی تصاویرپر ابھی دنیا انگلی دانتوں تلے دابے بیٹھی تھی کہ عقابوں کے میڈیکل اخراجات پر حیران کن اصراف کی تفاصیل نے مسلم ممالک اور ان میں بسنے والے عوام کو سکتے اور ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں ایک عرب شیخ کے 80عقابوں کے لگژری انداز میں ہوائی جہاز میں سفر کرنے کی تصاویر سامنے آئیں تو ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔

اب ان عقابوں کی لگژری زندگی کی ایک اور ایسی تصویر سامنےآئی ہےکہ عجم تو کیا عرب ممالک کے عوام بھی سکتے میں آگئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ابو ظہبی میں 1999میں عقابوں کے لئے ایک ہسپتال قائم کیا گیا جس میں عقابوں کو علاج کیلئے دنیا کی جدید ترین مشینری میسر ہے۔ اس ہسپتال میں عقابوں کو علاج کی جو سہولیات دستیاب ہیں وہ دنیا کے اربوں انسانوں کو نہیں ۔ یہ ہسپتال دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا اور جدید ہسپتال ہے جہاں تمام عرب ممالک سے عقابوں کو علاج کے لیے لایا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ان عقابوں کو لگژری کاروں میں اس ہسپتال میں لایا جاتا ہے جہاں ایک عقاب کے علاج پر اوسطاً 8ہزار پاؤنڈ (تقریباً ساڑھے 10لاکھ روپے) خرچ آتا ہے۔ اس ہسپتال میں سالانہ اوسطاً 11ہزار 200عقابوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ان عقابوں کی قیمت بھی حیران کن حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ اچھی نسل کے عقاب کی قیمت 10لاکھ پاؤنڈ(تقریباً 13کروڑ 26لاکھ روپے) تک ہوتی ہے۔ عرب دنیا میں عقاب پالنا ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی اکثر ایئرلائنز نے عقابوں کے سفر کے لیے قانون وضع کر رکھے ہیں اور ان کے ٹکٹ کی قیمتیں بھی مخصوص کر رکھی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…