اسلام آباد (اے این این) سربراہ ادارہ شماریات آصف باجوہ نے کہا ہے کہ مردم شماری کا عمل پندرہ مارچ سے شروع ہوگا، چھ ماہ سے پاکستان میں موجود تمام افراد کا مردم شماری میں اندراج کیا جائے گا جبکہ مردم شماری والے عملے کے پاس کسی کے شناختی کارڈ کو چیلنج کرنے کا اختیار نہیں ہو گا۔ اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے آصف باجوہ نے کہا کہ سترہ مارچ تک گھروں کے باہر نمبر لگائے جائیں گے جبکہ اگلے دس روز میں مردم شماری کے فارم بھرے جائیں گے۔
فارم میں گھر کے سربراہ کا نام اور شناختی کارڈ نمبر پوچھا جائے گا تاہم بے گھر افراد یا جھگیوں اور پلوں کے نیچے رہنے والوں کیلئے ایک دن مقرر ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ مردم شماری میں پاکستان میں قیام پذیر ہر شخص کا اندراج ہوگا۔ آصف باجوہ نے کہاکہ پاکستانی شہریوں اور غیر ملکیوں کیلئے فارم پر علیحدہ خانہ ہوگا۔ آصف باجوہ نے واضح کیا کہ مردم شماری کیلئے شناختی کارڈ ہونا ضروری نہیں۔ جعلی شناختی کارڈ کی صورت میں بعد میں متعلقہ شخص کو نان پاکستانی ڈکلیئر کیا جائے گا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت تمام فریقین کے تحفظات کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ بلاک شناختی کارڈ رکھنے والوں کا ڈیٹا نادرا کے ساتھ شئیر کر کے انہیں غیر ملکی قرار دیا جائیگا۔ محکمہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ نے پریس کانفرنس کے دوران گذشتہ ماہ مہنگائی میں اعشاریہ ایک آٹھ فیصد اضافے کی شماریات پیش کردیں۔ آصف باجوہ نے بتایاکہ ٹماٹر کے علاوہ زیادہ تر چیزیں مہنگی ہوئیں۔ انہوں نے مزید بتایاکہ جولائی تا جنوری مہنگائی کی اوسط شرح 3.85 فیصد رہی۔ آصف باجوہ کا کہنا تھا کہ ایک ماہ میں ٹوتھ پیسٹ 2.46 فیصد مہنگے ہوئے گھروں کے کرایہ میں 2 فیصد اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات نے بتایاکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ماہ میں 1.33 فیصد اضافہ ہوا۔



















































