لاہور (آن لائن) پلڈاٹ کی پاکستان میںمعیارِ جمہوریت سے متعلق جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال ملک میں معیار جمہوریت بہتر ہونے کی بجائے 4 فیصد پوائنٹس گراوٹ کا شکار رہا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میںپارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کامسلسل کارکر دگی کامظاہرہ نہ کرنا جمہوریت کیلئے مسائل پیدا کرتا ہے ۔
وفاقی کابینہ جسے سال میں کم از کم 52 مرتبہ اجلا س منعقد کرنا چاہئے۔ گذشتہ سال فقط 6 مرتبہ اکٹھی ہوسکی۔ عدلیہ کی کارکردگی کے حوالے سے پلڈاٹ نے تجویز دی ہے کہ فوجداری مقدمات جلد نمٹانے کیلئے عدالتی نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، 2016ء میں مقامی حکومتوںکا قیام اگرچہ مثبت اقدام ہے تاہم فاٹا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر میں بھی بلدیاتی انتخابات کرانے کی ضرورت۔ اس حوالے سے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا آئین کے آرٹیکل 140؍ اے کے تحت اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوئے ہیںیا نہیں۔ خیبر پی کے میں بلدیاتی اداروںکو اختیارات منتقل کئے گئے ہیں جبکہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، چھائونیوں اور اسلام آباد میں اختیارات کی منتقل کے حوالے سے پیشرفت نہیں ہوسکی جو کہ باعث تشویش ہے ۔ سکیورٹی امور کے حوالے سے سول ملٹری تعلقات اور جمہوری نگرانی 2016میں مزید عدم توازن کا شکار ہوا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت 2016کے دوران بھی میعار جمہوریت کا ایک منفی پہلو رہا۔ اگرچہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے جبکہ ایم کیو ایم کی پاکستانی جماعت قائم ہوئی تاہم تحریک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات کرانے میں ناکام رہی



















































