جمعرات‬‮ ، 01 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان سٹیل ملز خسارے کے باوجود اب بھی ایک گھنٹے میں کتنے پیسے کما سکتی ہے؟

datetime 30  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین نے حکومت کی جانب سے اسٹیل ملز کو 30 سال کے لیے لیز پر دینے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ جن لوگوں نے اس قومی اثاثے کو گھٹنوں پر لاکھڑا کیا، ان کا احتساب کیا جائے۔وزارت خزانہ، نجکاری اور صنعت و پیداوار کو بھیجے گئے ایک خط میں اسٹیل ملز ملازمین کی یونین (سی بی اے) نے مستقبل میں نجی

آپریٹرز پر اسٹیل درآمد کرنے پر ریگولیٹری اور اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز کے مجوزہ نفاذ یا اسٹیل درآمد کرنے پر پابندی سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔یونین نے اپنے خط میں اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ جب اسٹیل ملز عوامی ہاتھوں میں تھی تو بار بار درخواستوں کے باوجود اس طرح کے اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔یونین نے الزام لگایا ہے کہ گزشتہ 3 سال میں اسٹیل ملز کی مالی حالت بد سے بدتر ہوئی ہے،ملازمین نے دعویٰ کیا کہ اسٹیل ملز اب بھی ایک گھنٹے میں 30 لاکھ روپے کی پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، ورکرز کے مطابق خام مال نہ ملنے، گیس کی فراہمی نہ ہونے اور حکومت کے ذمے دیگر لاجسٹکس مسائل کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے۔ 30 جون 2013 کے اسٹیل ملز کے نقصانات اور واجبات کا تخمینہ 2 کھرب تھا جو حکومت کی ناکام پالیسیوں اور ترجیحات کے باعث 31 دسمبر 2016 تک بڑھ کر 4 کھرب 15 ارب تک پہنچ گیا۔نجکاری کمیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے حال ہی میں مالیاتی مشیروں اور کمیشن کی تجویز پر اسٹیل ملز کو ریونیو تقسیم کے فارمولے اور 5ہزار ملازمین کی رضاکارانہ علیحدگی یعنی والنٹری سیپریشن اسکیم (وی ایس ایس) کے تحت 30 سال کے لیے لیز پر دینے کی منظوری دی ہے۔معاہدے کے تحت حکومت رضاکارانہ علیحدگی اختیار کرنے والے

4 ہزار 835 ملازمین کو ایک کھرب 66 ارب روپے کی ادائیگیاں کرے گی، جس کے بعد اسٹیل ملز کے پاس نصف افرادی قوت اور آؤٹ سورسز پر کام کرنے والے نئے آپریٹرز باقی رہ جائیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…