پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

اقوام متحدہ نے پاکستان کے 8 مقامات کو کس میں شامل کر لیا؟

datetime 30  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی) اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور تہذیب (یونیسکو) نے تہذیبی اور قدرتی اہمیت کے حامل 8 پاکستانی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثوں کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔محکمہ آرکیالوجی اور میوزیم (ڈی او اے ایم) کی جانب سے مرتب کردہ فہرست میں چولستان کے قلعہ دراوڑ، بلوچستان میں ہنگول کے تہذیبی مقامات، سندھ کے ریگستانی علاقے نگرپارکر

کے مناظر، گلگت بلتستان میں موجود قراقرم اور دیوسائی نیشنل پارک، بلوچستان میں زیارت، جونیپر کے جنگلات اور کاریز سسٹم کے مناظر سمیت پنجاب میں موجود کھیوڑہ کی نمک کی کان کو یونیسکو بھیجا گیا تھا اور انھیں دنیا کے قدیم وراثتی مقامات میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔محکمے کے ڈپٹی ڈائریکٹر طاہر سعید کے مطابق یونیسکو کو ان مقامات کی اہمیت کا اندازہ دلانا ایک اہم اقدام تھا۔طاہر سعید کا کہنا تھا کہ یونیسکو سے منظوری کے بعد اگلا اہم کام ان تمام مقامات کی رپورٹ تیار کرنا ہے، ہر مقام کی رپورٹ تیار کرنے میں 2 سے 3 سال کا عرصہ لگ سکتا ہے، اس رپورٹ کے ذریعے پاکستان یونیسکو کو اس منصوبہ بندی سے آگاہ کرے گا جس سے وہ ان مقامات کا تحفظ اور دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا بھر سے آنے والے افراد یہاں تک رسائی اور آسان سہولیات حاصل کرسکیں۔ڈپٹی ڈائریکٹر کے مطابق اس کے علاوہ بھی یونیسکو کی جانب سے عالمی ورثے کا حصہ بننے کی اور بہت سی شرائط ہیں جنہیں پورا کیا جانا ضروری ہے۔ان تاریخی مقامات کو عالمی ورثے میں شامل کرنے کی درخواست اچانک ہی سامنے آئی ہے جبکہ پاکستان میں تاریخی اہمیت کے حامل بیشتر مقامات نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے تباہی اور تجاوزات سے متاثر ہیں۔واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی

لاہور کے پانچ مقامات شالیمار باغ، گلابی باغ، بدھو کا گنبد، چوبرجی اور زیب النساء گنبد کے حوالے سے ان تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا کہ نئی ترقیاتی اسکیموں سے ان کے متاثر ہونے کا خطرہ تھا کیونکہ یہ مقامات اورنج لائن منصوبے کے راستے میں موجود تھے۔



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…