پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

پروفیسر سلمان حیدر کے مبینہ اغواء کا ڈراپ سین

datetime 28  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی ) لاپتہ سماجی کارکن اور فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی کے پروفیسر سلمان حیدر واپس اپنے گھر پہنچ گئے ۔پولیس ذرائع کے مطابق سلمان حیدر گذشتہ رات اپنے گھر پہنچے۔پولیس ذرائع کے مطابق لاپتہ پروفیسر سلمان حیدرگھر پہنچ گئے ،سلمان حیدر کو ان کے بھائی ذیشان حیدر کی موجودگی میں گھر پہنچایا گیا ، سلمان حیدر کو گزشتہ ماہ سات جنوری کو بنی گالہ سے نامعلوم افراد اپنے ساتھ لے گئے تھے

اور ان کے لاپتہ ہونیکا مقدمہ تھانہ لوہی بھیر میں ان کے بھائی ذیشان حیدر کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا،سلمان حیدر کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا تھا،ذرائع کے مطابق پولیس نے سلمان حیدر کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا۔ سلمان حیدر7 جنوری کو اسلام آباد کے علاقے بنی گالا سے لاپتہ ہوئے تھے۔ گمشدگی کے بعد سلمان حیدر کے بھائی ذیشان حیدر نے بتایا تھا کہ وہ 6 جنوری کی شام بنی گالا کے علاقے میں اپنے دوستوں کے ہمراہ موجود تھے اور انھوں نے اپنی اہلیہ کو اطلاع دی تھی کہ وہ رات 8 بجے تک گھر پہنچ جائیں گے، 10 بجے کے قریب اہلیہ نے انھیں فون کیا مگر انھوں نے فون ریسیو نہیں کیا۔ ذیشان حیدر کا مزید کہنا تھا کہ سلمان حیدر کے نمبر سے ان کی اہلیہ کو ایک ایس ایم ایس موصول ہوا کہ کورال چوک سے ان کی گاڑی لے لی جائے۔بعدازاں پولیس کو سلمان حیدر کی گاڑی کورنگ ٹاؤن کے قریب سے ملی تھی جبکہ تھانہ لوئی بھیر میں ان کے اغو ا کی رپورٹ درج کرلی گئی تھی۔ سلمان حیدر پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں اور 5 سال سے زائد عرصے سے فاطمہ جناح یونیورسٹی سے منسلک ہیں، وہ ادب، تھیٹر میں اداکاری، ڈرامہ نگاری اور صحافت بھی کر چکے ہیں۔سلمان حیدر چالیس پینتالیس برس کے جوان پاکستانی ہیں‘

یہ فاطمہ جناح وویمن یونیورسٹی کے شعبہ جینڈر سٹڈیز کے پروفیسر ہیں‘ یہ ادب‘ تھیٹر‘ اداکاری‘ ڈرامہ نگاری اور صحافت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں‘ یہ نظمیں بھی لکھتے ہیں‘ ان کی ایک متنازعہ نظم ’’میں بھی کافر تو بھی کافر‘‘ سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہوئی‘ یہ 6 جنوری کی رات بنی گالہ میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھے‘ یہ گھر جانے کیلئے نکلے اور غائب ہو گئے‘اہلیہ نے دس بجے فون کیا ‘ سلمان حیدر نے فون نہ اٹھایا‘

اہلیہ کو بعد ازاں سلمان حیدر کے نمبر سے ایس ایم ایس موصول ہوا’’میری گاڑی کرال چوک میں کھڑی ہے‘ آپ گاڑی وہاں سے منگوا لیں‘‘ گاڑی اگلے دن کورنگ ٹا?ن سے ملی‘ خاندان نے تھانہ لوئی بھیر میں اغواء4 کا پرچہ درج کرا دیا۔سلمان حیدر ان پانچ مسنگ پرسنز میں شامل ہیں جنہیں 4 سے 7جنوری کے درمیان اغواء4 کیا گیا‘ عاصم سعید اور وقاض گورایا کو 4 جنوری کو لاہور سے اٹھایاگیا‘ عاصم سعید سنگا پور سے لاہور پہنچا تھا

جبکہ وقاص گورایا ہالینڈ میں رہتا تھا‘ یہ دونوں چار جنوری کو لاہور سے غائب ہو گئے‘ احمد رضا نصیر اور ثمر عباس 7 جنوری کو اٹھا لئے گئے‘ رضا نصیر ننکانہ صاحب میں اپنی دکان پر بیٹھا تھا‘ یہ وہاں سے اغواء4 کر لیا گیا‘ ثمر عباس کراچی کا رہائشی تھا‘ یہ کاروبار کے سلسلے میں اسلام آباد آیا اور غائب ہو گیا‘ یہ لوگ اگر عام حالات میں غائب ہو تے تو شاید یہ بڑی خبر نہ بنتے لیکن یہ پانچوں حضرات ایک ہی کیٹگری سے تعلق رکھتے ہیں‘ یہ بلاگرز ہیں اور یہ سوشل میڈیا پر ایک ہی قسم کا مواد پھیلاتے تھے‘

سلمان حیدر مبینہ طور پر فیس بک کے دو متنازعہ پیجز کے ایڈمن تھے ‘ایک پیج پر طویل عرصے سے مذہب کا مذاق اڑایا جا رہا تھا ‘ مقدس ہستیوں کے بارے میں توہین آمیز فقرے بھی لکھے جاتے تھے جبکہ دوسرے پیج پر پاک فوج کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جاتا تھا‘ عاصم سعید اور وقاص گورایا بھی فیس بک کا ایک پیج چلا رہے تھے‘ یہ اس پیج کے ذریعے کراچی آپریشن پر تنقید بھی کرتے تھے

اور یہ سینئر عہدیداروں پر کرپشن کے الزامات بھی لگاتے تھے‘ احمد رضا نصیر بھی سیکولر خیالات کا مالک ہے‘ یہ ایف اے پاس ہے‘ یہ خود بلاگ نہیں لکھتا تھالیکن ایک بے راہ رو برطانوی لڑکی اس کی سوشل میڈیا فرینڈ تھی‘ یہ لڑکی قابل اعتراض بلاگ لکھتی تھی اور یہ ان بلاگز کو اپنے فیس بک پیج پر شیئر کر دیتا تھا جبکہ ثمر عباس ہیومن رائیٹ ایکٹوسٹ تھا‘

یہ سول پروگریسیو الائنس پاکستان (سی پی اے پی) کا صدرتھا‘ یہ متعدد فورمز پر اقلیتوں کے بارے میں آواز اٹھاتا تھا ‘یہ اسٹیبلشمنٹ کا ناقد بھی سمجھا جاتا تھا اور یہ سوشل میڈیا پرمذہبی تنظیموں کے خلاف بھی سرگرم تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…