ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

قحط کا خطرہ، ہر دس منٹ بعد کتنے بچے موت کی نظر ہو رہے ہیں ؟رپورٹ

datetime 29  جنوری‬‮  2017 |

صنعاء( آن لائن )اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ اور خوراک کے بحران کا شکار یمن رواں سال قحط کا شکار ہوسکتا ہے۔اقوام متحدہ کے ایمرجنسی ریلیف کوارڈینیٹر سٹیفن او برین نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ 20 لاکھ افراد کو زندہ رہنے کے لیے خوراک کی اشد ضرورت ہے اور بچوں میں غذائی کمی کی شرح ایک سال میں 63 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر دس منٹ

 

کے بعد پانچ سال سے کم عمر ایک بچہ ان وجوہات کی بنا پر موت کے منہ میں جا رہا ہے جن سے بچاؤ ممکن ہے۔شدید غربت، جنگ اور سعودی عرب کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے بحری پابندیوں نے خوراک کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے۔کیا دنیا یمن کی خانہ جنگی کو فراموش کر چکی ہییمن میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے جن میں 22 لاکھ بچے شامل ہیں جبکہ 50 ہزار کے قریب بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔سٹیفن اوبرین نے امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک کے حمایت یافتہ سعودی اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ نو فلائی زون کو ختم کریں اور صنعا کا ہوائی اڈہ دوبارہ کھولیں تاکہ جان بچانے والی ادویات پہنچائی جاسکیں اور 20 ہزار یمنیوں کو بیرون ملک خصوصی طبی علاج معالجہ فراہم کیا جاسکے۔ان کا کہنا ہے کہ اس ناکہ بندی سے عام شہری متاثر ہو رہے ہیں۔یمن میں اقوام متحدہ کے ہیومینٹیرین کواڈینیٹر جیمی مک گولڈریک نے بی بی سی کو بتایا کہ لوگوں میں مایوسی ہے اور اندازا تین ماہ کے لیے گندم موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ جہاں کہیں بھی جائیں، آپ کو بڑی تعداد میں گلیوں میں لوگ بھیک مانگتے ملیں گے، آپ دیکھیں کہ لوگ زندہ رہنے کے لیے گندگی میں سے بھی چیزیں تلاش کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…