ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

اگر میرے استاد کو ایک لاکھ احادیث یاد نہ ہوں تو تمہیں میری طرف سے تین طلاق

datetime 27  جنوری‬‮  2017 |

ابوزرعہ رحمتہ اللہ علیہ ایک محدث گزرے ہیں ان کی محفل میں ایک شاگردآیا کرتا تھا اس کی نئی نئی شادی ہوئی ایک دن محفل ذرا لمبی ہو گئی تو اس کو گھر جانے میں دیر ہو گئی جب وہ رات دیر سے گھر پہنچا تو بیوی الجھ پڑی کہ میں انتظار میں تھی تم نے آنے میں کیوں دیر کی؟ اس نے سمجھایا کہ میں وقت ضائع نہیں کر رہا تھا‘ میں تو حضرت کے پاس تھا‘ وہ کچھ زیادہ غصے میں تھی‘ غصے میں کہہ بیٹھی کہ تیرے حضرت کو کچھنہیں آتا‘ تجھے کیا آئے گا‘ استاد کے بارے میں بات سن کے تو یہ نوجوان بھی بھڑک اٹھا۔

نوجوان لوگ ہوتے تو آگ ہی ہیں تیل لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیسے ماچس کی ڈبیا ہوتی ہے بس رگڑ لگنے کی دیر ہوتی ہے آگ تو پہلے سے اندر ہوتی ہے نوجوان کا نفس بھی ایسا ہوتا ہے کہ بیچارے بازار سے گزرتے ہیں آنکھ اٹھتے ہی بس رگڑ لگتی ہے اور شہوت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ جب بیوی نے یہ کہا کہ تیرے استاد کو کچھ نہیں آتا تجھے کیا آئے گا‘ تو یہ سن کر نوجوان کو بھی غصہ آیا اور کہنے لگا کہ اگر میرے استاد کو ایک لاکھ احادیث یاد نہ ہوں تو تجھے میری طرف سے تین طلاق ہیں۔ اب غصے میں فائرنگ تو دونوں طرف سے ہو گئی۔ صبح اٹھ کر دماغ ٹھنڈے ہوئے تو سوچنے لگے ہم نے تو بہت بڑی بیوقوفی کی۔ بیوی نے خاوند سے پوچھا کہ میری طلاق مشروط تھی اب بتائیں کہ یہ طلاق واقع ہوئی یانہیں؟ اس نے کہا کہ یہ تو استاد صاحب سے پوچھنا پڑے گا اس نے کہا کہ جائیں پتہ کر کے آئیں۔ چنانچہ یہ نوجوان اپنے استاد کے پاس پہنچا اور کہا کہ رات یہ واقعہ پیش آیا۔ اب آپ بتائیے کہ نکاح سلامت رہا یا طلاق واقع ہو چکی ہے ان کے استاد یہ بات سن کر مسکرائے اور فرمانے لگے کہ جاؤ تم میاں بیوی والی زندگی گزارو‘ کیونکہ ایک لاکھ احادیث مجھے اس طرح یاد ہیں کہ جس طرح لوگوں کو سورہ فاتحہ یاد ہوتی ہے۔ سبحان اللہ یہ قوت حافظہ میں برکت تھی جو اللہ تعالیٰ نے عطا کر دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…