پیر‬‮ ، 01 جون‬‮ 2026 

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کی نقل کی۔۔آپ تو نسوار بھی سی پیک کے نام پر بیچ رہے ہیں۔۔ مگر نسوار پنجاب میں بک رہی ہے ۔۔پرویزرشید کو’’کھلاڑی‘‘ نے لاجواب کردیا

datetime 25  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)سینیٹ کی منتخب کمیٹی برائے اطلاعات تک رسائی میں ارکان کمیٹی پرویز رشید اور تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کے مابین دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو ایک شعر پڑھوں،سینیٹر پرویز رشید نے استفسار کیا کہ آپ اپنا شعر پڑھیں گے یا اپنے والد احمدفراز کا؟ جس پر شبلی فراز نے کہا کہ ظاہر ہے اپنے والد کا شعرپڑھوں گا،سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ

آپ کے والد کے شعر ہم نے آپ سے ذیادہ پڑھے اور سنے ہیں ،بلکہ ہم نے انکے شعرسننے کی سزا بھی بھگتی ہے، جس پر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جی میں نے بھی سزا بھگتی ہے،جس پر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ جی آپ نے کیا سزا بھگتی ہے، جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جی میں نے اپنے والد سے براہ راست مار کھائی ہے، سینیٹر شبلی فراز کے جواب پر کمیٹی میں قہقہے جاری ہو گئے۔سینیٹ کی منتخب کمیٹی برائے اطلاعات بل کے اجلاس میں نسوار کا تزکرہ بھی ہوا۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے اطلاعات تک رسائی بل کی نقل کی ہے،جس پر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ نقل کا الزام ضرور لگائیں مگر یہ نہ کہیں کہ آپ کی نقل کی ہے،آپ تو نسوار بھی سی پیک کے نام پر بیچ رہے ہیں،جس پر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مگر نسوار پنجاب میں بک رہی ہے ۔ سینیٹرشبلی فراز کے جواب پر اجلاس کشت زعفران بن گیا۔سینیٹ کی منتخب کمیٹی برائے اطلاعات تک رسائی میں ارکان کمیٹی پرویز رشید اور تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز کے مابین دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ اجلاس کے دوران سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو ایک شعر پڑھوں،سینیٹر پرویز رشید نے استفسار کیا کہ آپ اپنا شعر پڑھیں گے یا اپنے والد احمدفراز کا؟



کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…