ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے پاس کتنے جوہری ہتھیار موجود ہیں؟اگر بھارت نے حملہ کیا تو کیا ہوگا؟امریکی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ، لرزہ خیز انکشافات

datetime 24  جنوری‬‮  2017 |

واشنگٹن(آئی این پی) پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں دنیا کی تمام بڑی طاقتیں یہ تو جان چکی ہیں کہ اس کے بارے میں صحیح اندازہ لگانا مشکل ہے مگر امریکی ادارے کے نئے انکشافات نے تو بھارت کی نیندیں اْڑا دی ہیں، یہ انکشافات کے مطابق کستان کے جوہری ہتھیار بھارت کوکسی بھی فوجی کارروائی سے روکنے کیلئے ڈیزائن کئے گئے ہیں ‘

جوہری ہتھیاروں کی دوڑخطے میں جوہری تنازع کا باعث بن سکتی ہے‘پاکستان کے پاس 150 سے 210 کے قریب جوہری ہتھیار موجود ہیں‘2004ء کے بعد سے پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کومزید بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات کیے ہیں ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرپاکستان اور بھارت اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کرتے رہے تودونوں ممالک کے اسٹرٹیجک استحکام کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آرایس )کی جانب سے امریکی قانون سازوں کوارسال کی جانے والی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے جوہری ہتھیار بھارت کوکسی بھی فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، تاہم پاکستان ان کی تعداد میں مزید اضافہ کررہا ہے۔رپورٹ میں بھارت کے جوہری ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تعدادکا بھی ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مصنفین نے اس بات کوتسلیم کیاکہ جوہری ہتھیاروں کی دوڑخطے میں جوہری تنازع کا باعث بن سکتی ہے۔رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیاکہ پاکستان کے پاس تقریباً 150سے210کے قریب جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

رپورٹ میں خبردارکیا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد،نئے جوہری ہتھیاربنانا اور’پوری طاقت سے جواب‘کے نظریے نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنازع کے خطرے کو بڑھادیاہے۔2004ء کے بعد سے پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کی سیکیورٹی کومزید بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

ادارے کے مطابق بھارت نے اگر کسی بھی قسم کی جارحیت کا اقدام اٹھایا تو پھر خطے کے امن کیلئے بڑے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق پاکستان بھارتی جارحیت کیخلاف کسی قسم کے جارحانہ عزائم نہیں رکھتا لیکن اگر بھارتی سرکار نے کسی قسم کا پنگالینے کی کوشش کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار بیٹھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…