ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت لاہور، گوجرانوالہ، گلگت اور سکردو پر قبضہ کرنے ہی والا تھا پھر اچانک کیا وجہ بنی ہندوستان یہ کام نہ کر سکا ؟ 

datetime 24  جنوری‬‮  2017 |

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) فخر پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ اگر میری تجاویز لی جاتیں تو آج ہم لوڈشیڈنگ کے ناسور میں مبتلا نہ ہوتے۔کرپٹ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں پھنسادیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ 1998ء میں اگرہم دھماکہ نہ کرتے تو ہندوستان ہمارے شہروں،

لاہور، گوجرانوالہ، گلگت، سکردو تک قابض ہوجاتا، مجھے افسوس ہے کہ ہم ایٹمی قوت بننے کے باوجود اس سے استفادہ نہیں کرپائے۔ا گر اس وقت میری تجاویز کو مان لیا ہوتا تو آج ہم لوڈشیڈنگ کے ناسور میں مبتلا نہ ہوتے، حکومت نے میری صلاحیتوں کو ضائع کردیا حالانکہ میں ایٹمی بم بنانے میں اپنی 15فیصد صلاحیتیں استعمال کرسکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں آٹو موبائل فیکٹریاں قائم کی جاتی تو آج ہم امریکہ، چاپان اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے ہوتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…