ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

منرل واٹر کے نام پر عوام کو کیا پلایا جا رہا ہے؟ تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ میں ہولناک انکشافات

datetime 24  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آن لائن) پینے کے صاف اور محفوظ پانی کی کمی کی وجہ سے ملک بھر میں بوتلوں میں بند پانی کی صنعت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقاتِ آبی وسائل، حکومتِ پاکستان ، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی ہدایت پر بوتلوں میں بند پانی کی کوالٹی کی مانیٹرنگ ایجنسی کو طور پر کام کر رہی ہے۔ ہر سہ ماہی کے اختتام پر پینے کے بوتل بند پانی

 

کے مختلف برانڈزکی تجزیاتی رپورٹ پی سی آر ڈبلیو آر کی ویب سائٹ پر اور میڈیا میں شائع کر دی جاتی ہے ۔اکتوبر تا دسمبر 2016 کی سہ ماہی میں اسلام آباد ،راولپنڈی،سیالکوٹ، کوئٹہ، پشاور، مظفر آباد، فیصل آباد، سرگودھا، ملتان، لاہور اور ٹنڈوجام سے بوتل بند/ منرل پانی کے 78 برانڈز کے نمونے حاصل کیے گئے ۔ ان نمونوں کا پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) کے تجویز کردہ معیار کے مطابق تجزیہ کیا گیا۔ اس تجزیے کے مطابق 11 برانڈز(ویل کئیر، لائٹ ایکوا، نیو پریمیر، رائل بلیو، ایکوا سیف، ایکوا ڈرنک واٹر، راحت، اوسلو، این جی فریش واٹر، نرچرَ مِل واٹر اور آبِ خوب) برانڈز کے نمونے کیمیائی طور اور جراثیمی پر آلودہ پائے گئے۔ ان میں7 نمونوں (ویل کئیر، لائٹ ایکوا، نیو پریمیر، رائل بلیو، ایکوا سیف، ایکوا ڈرنک واٹر اور راحت) میں سنکھیا کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ (12 پی پی بی سے لیکر 34 پی پی بی) تک تھی، جبکہ پینے کہ پانی میں اس کی حدِ مقدار صرف 10 پی پی بی تک ہے۔ پینے کے پانی میں سنکھیا کی زیادہ مقدار کی موجودگی بے حد مضرِ صحت ہے۔ کیونکہ اس کی وجہ سے پھیپڑوں ، مثانے، جلد، پراسٹیٹ، گردے، ناک اور جگر کا کینسر ہو سکتا ہے اس کے علاوہ بلڈ پریشر ، شوگر، گردے اور دل کی بیماریاں، پیدائشی نقائص اور

 

بلیک فُٹ جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں۔ جبکہ4 برانڈز (ویل کئیر، این جی فریش واٹر، اوسلو، نیو پریمئیر)کے نمونوں میں سوڈیم کی مقدار سٹینڈرڈ سے زیادہ (68 سے لے کے165 پی پی بی ) پائی گئی جبکہ پینے کہ پانی میں اس کی حدِ مقدار صرف 50 پی پی بی تک ہے۔ اور ایک نمونے (نرچرَ مِل) میں پوٹاشیم کی مقدار زیادہ پائی گئی۔ آلودہ برانڈز میں سے ایک نمونے (آبِ خوب) جراثیم سے آلودہ پایا گیا جس کی وجہ سے ہیضہ، ڈائریا، پیچش، ٹائفائیڈ اور یرقان کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…