ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

سابق سپہ سالار کی پے در پے کامیابیوں کے پیچھے دراصل کس کا ہاتھ ہے ؟ 

datetime 22  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اور اس بڑھ کر اسلامی معاشرے میں بہنیں بھائیوں کا اور بھائی بہنوں کا فخر ہوتے ہیں ۔اور جس کے بھائی راحیل شریف اور شبیر شریف ہوں اس بہن کا بھائیوں پر فخر بے جا نہ ہوگا۔ سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) راحیل شریف اور میجر شبیر شریف شہید نشان حیدرکی بڑی بہن خالدہ سعادت بتاتی ہیں کہہمارے آباؤ اجداد ریاست جموں و کشمیر کے شہر سری نگر سےہجرت کرکے کنجاہ آ کر آباد ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا راحیل نے ریٹائرمنٹ لینے کا بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔

یہاں کے عوام محبت کرنے والے لیکن سیاسی سیٹ اپ اچھا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا گھر کا ماحول فوجی تھا۔ والد نظم و ضبط بہت پسند کرتے تھے۔ روز مرہ کی زندگی کے طور طریقوں میں اسلامی اقدار واضح نظر آتی تھیں‘ بڑوں کی عزت کی جاتی تھی۔ راحیل کو سکول میں کسی اور چیز کے لیے انعام ملے یا نہ ملے لیکن ہر سال بہترین رویے والے طالب علم کا ایوارڈ ضرور ملتا تھا۔ وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے۔ راحیل اب بھی مشکل سے مشکل وقت میں مسکراتے اور ہر ایک کے ساتھ مسکرا کر ملتے ہیں۔ انہوں نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا۔انہوں نے معیار کو ہمیشہ ترجیح دی اور سب کے حقوق کا خیال رکھا۔ میجر شبیر شریف نے فوج کے لحاظ سے اس کی ٹریننگ کی اور سوئمنگ اور کھیل سکھائے۔ شبیر بہت اچھا کھلاڑی تھا‘ اسے بیڈ منٹن کھیلنے کا بہت شوق تھا۔ انہوں نے کہا میں نے راحیل کا نام بوبی رکھا تو سب انہیں بوبی کہنے لگے۔میرے بھائی نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے کامکرکے جوعزت حاصل کی ہے اس میں ان کی بیگم کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔میں سمجھتی ہوں کہ ایک بیوی کی حیثیت سےانہوں نے راحیل کا بہت خیال رکھا اور ہرقدم پر ساتھ دیا۔ انہوں نے بتایا والدہ میرے پاس رہتی تھیں۔ چیف بننے کے بعد راحیل نے کہا میرا کام ایسا ہے کہمجھے ہر وقت ماں کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔راحیل نے کہا کہ میں صبح آپ کی دعاوٗں کے سائے میں جانا چاہتا ہوں۔ وہ امی کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ہر مشن پر جانے سے پہلے

امی سے دعا لے کر جاتے۔ وہ کہتے تھے کہ خالدہ با جی! فکر نہ کرنا‘ مجھے آپ کی دعائیں چاہئے‘ آپ دعا کریں میں اپنے مشن میں کامیاب ہوجاؤں۔راحیل ہمیشہ کہتے رہے کہ شہادت سے بڑا کوئی رتبہ نہیں ہےاس رتبے کو حاصل کرنے کی خواہش کرنی چاہئے۔ میں نے انہیں کبھی فوجی یونیفارم کے بغیر نہیں دیکھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک تقریب میں انہیں تھری پیس سوٹ میں دیکھ کر بہت اچھا لگا۔ خالدہ سعادت نے بتایا کہ میں دنیا کی خوش قسمت ترین بہن ہوں‘ جسے راحیل جیسا چھوٹا بھائی نصیب ہوا۔ اللہ کرے کہ ہر بہن کی قسمت میں ایسا بھائی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…