ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

حمزہ شہبازکا عمران خان اور بلاول بھٹو کو بڑا چیلنج،انتباہ کردیا

datetime 21  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(آئی این پی) مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما رکن قومی اسمبلی میاں حمزہ شہباز شر یف نے کہا ہے کہ پتلی گلی سے نکل کر وزیر اعظم بننے کا دور ختم ہو چکا ہے ‘عمران خان سن لیں دھر نوں اور کنٹینرز پر چڑ ھنے سے کوئی وزیر اعظم نہیں بنتا ‘بلاول بھٹوسے کہو وہ اخلاقیات کی پاسداری کر ے ، ہمیں تخت لاہور کا طعنہ دینے والے شہر قائدپر توجہ دیں

وزیر اعظم نوازشر یف نے خود کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے 2018میں عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کر یں گے و ہ کس کو اقتدار میں لانا چاہتے ہیں ‘وزیر اعلی پنجاب عوام کو صحت سمیت دیگر سہولتوں کی فراہمی کیلئے اقدامات کیلئے روزانہ اجلاس کرتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حقائق سے نظر یں نہیں چرانی چاہئیں ‘2018تک ملک میں بجلی کی لوڈشیڈ نگ کے جن کو بوتل میں بند کر دیں گے اور قوم سے عام انتخابات میں کیے جانیوالے وعدوں کو پورا کیا جائیگا ۔ ہفتہ کو یہاں میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز شر یف نے کہا کہ وزیر اعظم نوازشر یف نے پانامہ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد خود اور اپنے خاندان کو احتساب کیلئے پیش کر دیا ہے اور وزیر اعظم نے اپنا مستقبل سپر یم کورٹ کو سونپ دیا ہے اور اب وہاں ہی پانامہ کا فیصلہ ہونا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ الزام تر شیوں کی سیاست کی ہے مگر الزام تر شیوں سے کبھی کوئی لیڈر نہیں بنا سکتا اور اب پتلی گلی سے نکل کر وزیر اعظم بننے اور ٹانگیں کھنچنے کا دور ختم ہوچکا ہے عوام اب ترقی چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے اقتدار میں آنے کے تمام خواب چکنا چور ہو چکے ہیں

اور احتساب کی بات کر نیوالے عمران خان نے خیبر پختونخواہ میں احتساب کمیشن کا جو حال کیا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی حکومت نے نہ صرف تمام چیلنجز کو قبول کیا ہے بلکہ انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے ہیں اور عام انتخابات 2013میں قو م سے جتنے بھی وعدے کیے انکو پورا کیا جارہا ہے ملک میں لوڈشیڈ نگ میں کمی آچکی ہے اور 2018تک ملک میں لوڈشیڈ نگ کا جن ہمیشہ کیلئے بوتل میں بند کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کو مشورہ دوں گا وہ اخلاقیات کا دامن نہ چھوڑے اور ووٹ الزام تر شیوں پر نہیں کار کردگی پر ووٹ دیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…