جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے سے امریکی پالیسیوں میں ایران ،سعودی عرب اورہندوستان کے ساتھ تعلقات میں کیا تبدیلی آئے گی،سابق سفیرعبداللہ حسین ہارون کی پیش گوئیاں

datetime 20  جنوری‬‮  2017 |

کراچی(آئی این پی)اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مندوب عبداللہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے اور اوبامہ کے جانے سے ایشیاء کی علاقائی سیاست سمیت دیگر ممالک سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی ہے‘ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے سے امریکی پالیسیاں بھی تبدیل ہونگی‘اوبامہ کے جانے سے امریکہ کی چین بارے پالیسی میں تبدیلی ‘روس سے نفرت کا کھیل بھی بند ہوتا نظر آرہا ہے‘ایران اور سعودی عرب .
سے متعلق پالیسی میں بھی تبدیلی محسوس ہو رہی ہے

انہوں نے کہاکہ چین کیخلاف امریکہ کے ہندوستان سے جو معاملات تھے اب وہ نہیں رہیں گے‘امریکہ ہندوستان معاملات میں پالیسی شفٹ آسکتی ہے‘مختلف کھیل کھیلے جا رہے ہیں اس لئے نتائج بھی مختلف برآمد ہوں گے۔ جمعہ کو ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اوبامہ کے جانے تک امریکا کی چین سے متعلق جو پالیسی تھی اس میں اب تبدیلی آرہی ہے اور روس کے ساتھ نفرت کا کھیل بھی بند ہوتا نظر آرہا ہے۔ایران اور سعودی عرب سے متعلق پالیسی میں بھی تبدیلی محسوس ہو رہی ہے۔ چین کیخلاف امریکا کے ہندوستان سے جو معاملات تھے اب وہ نہیں رہیں گے۔امریکا ہندوستان معاملات میں پالیسی شفٹ آسکتی ہے۔مختلف کھیل کھیلے جا رہے ہیں اس لئے نتائج بھی مختلف برآمد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکا نے ہمارے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں۔امریکا کیلئے لڑی جانے والی جنگ میں پاکستان کے 150 سے 200 بلین ڈالر خرچ ہوئے جس کا 7 فیصد امریکا کو دینا تھا لیکن وہ اس سے بھی گریز کر گئے اور صرف پاکستان کو بدنام کیا۔ہم نے ان کے آسرے پر بہت بڑی جنگ میں شرکت کی لیکن ہاتھ میں بدنامی کے علاوہ کچھ نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک بننے سے ہندوستان کے ناپاک عزائم میں رکاوٹ پید ا ہو گی۔روس بھی سی پیک میں شامل ہو رہا ہے اور اس سے بڑا فرق پڑے گا۔دنیا کی فارن پالیسیز میں تبدیلی آ رہی ہے لیکن ہم نے کچھ نہیں بدلا۔چین کو کنٹرول کرنے کیلئے تائیوان اور امریکا میں قربت بڑھ رہی ہے۔تمام تر پرانا ملبہ جو امریکا اپنے کندھے پر لیکر چل رہا ہے

عبداللہ حسین ہارون نے مزیدکہاکہ جاپان سے لیکر برطانیہ تک اس میں اگر تبدیلی لانی ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان کی ضرورت پڑے گی۔اس ساری صورتحال میں ہندوستان کو بڑا فرق پڑے گا۔ہندوستان کشمیر تو نہیں دے گا لیکن ہم آگے کی جانب پیش قدمی کر سکتے ہیں۔طویل عرصہ بعد ہمیں موقع میسر آیا ہے اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔اگر ہماری تیاری اچھی ہو گی تو خود بخود راستے بننا شروع ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…