ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعلی پنجاب کالینڈریکارڈمینجمنٹ انفارمیشن سسٹم میں میرٹ پربھرتیاں نہ ہونے کاانکشاف ،سیکرٹری امداداللہ بوسال کی تعریف

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

لاہور(نیوزڈیسک)وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ارفع کریم سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک میں لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم کے تحت بننے والے مرکزی ڈیٹا سنٹرکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس نئے نظام کی افادیت اور اہمیت کو اجاگر کیا اور بھرتی کے عمل میں سامنے آنے والی خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے قوم کو پٹواری کلچر سے نتائج دلانے کا وعدہ کیا تھا لیکن کرپٹ عناصر نے لاکھوں روپے بٹور کر دوبارہ پٹواریوں کو اس نظام میں شامل کرنے کی کوشش کی جس پر میں نے سخت ایکشن لیا ہے

میں آج آپ سب کو یہ بات اس لئے بتانا چاہتا ہوں کہ بات چھپانے سے خرابی پیدا ہوتی ہے جبکہ بات کو سامنے لانے سے خرابی دور ہوتی ہے اور احتساب میں مدد ملتی ہے ۔وزیر اعلی نے بتایا کہ لینڈریکارمینجمنٹ انفارمیشن سسٹم میں 477 کے قریب بھرتیاں کی گئیں جن میں سے صرف 38 میرٹ پر ہوئیں جبکہ بھرتیوں کیلئے افسروں نے چھ چھ لاکھ روپے رشوت لی ۔ جب میرے سیکرٹری امداد اللہ بوسال نے مجھے ایک خط دکھایا تو میں حیران رہ گیا جس پر میں نے اس کی انکوائری کرائی تو صورتحال انتہائی افسوسناک سامنے آئی۔اس پر کارروائی کرتے ہوئے افسروں کو ہتھکڑیاں لگائی گئیں ۔ میں اپنے سیکرٹری امداد اللہ بوسال کی ایمانداری اور دیانتداری کی تعریف کرتا ہوں کیونکہ انہوں نے اس واقعہ کا کھوج لگانے کیلئے بڑی محنت سے کام کیا ۔ اگر وہ چاہتے تو اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کے لئے ان کی مدد کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہ کیااور حق کا ساتھ دیااور فرض شناسی کا ثبوت دیا اور میں سمجھتا ہوں کہ ایسے ہی درد دل رکھنے والے افسر پنجاب میں ہونے چاہییں ۔وزیر اعلی نے کہا کہ تمام شرکاء کھڑے ہو کر ان کے لئے تالیاں بجائیں کیونکہ وہ ایک مثالی افسر ہیں جس پر تقریب میں موجود تمام افراد اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور ان کیلئے زور دار تالیاں بجائیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…