اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے رئیل سٹیٹ کاروبارمیں اچانک تیزی ،وجہ حیران کن ، ایک ماہ میں پراپرٹی کے کتنے ہزارسودے طے پائے ،کتنے ارب کابزنس ہوا؟

datetime 19  جنوری‬‮  2017 |

کراچی(آن لائن) وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت (ایف پی سی سی آئی) کے سابق نائب صدر اور آباد کے سابق چیئرمین محمد حنیف گوہر نے کہاہے کہ حکومت کی نافذ کردہ رئیل اسٹیٹ ایمنسٹی اسکیم کے تحت جائیدادوں کی خریدوفروخت میں بتدریج تیزی آرہی ہے۔ ایف بی آر کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 7دسمبر سے13جنوری تک عرصے میں غیر منقولہ جائیدادوں کے 19ہزار سے زائد سودوں میں مجموعی طور پر 6ارب80کروڑ روپے کاکاروبار کیا گیاہے۔ اور پراپرٹی سودوں میں 90فیصد اضافہ ہوا ہے جوحوصلہ افزاپیشرفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے اعدادوشمار کے مطابق7دسمبر 2016سے نافذ العمل ایمنسٹی اسکیم سے13جنوری2017تک ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن236ڈبلیو کے تحت 20کروڑ روپے کاعلیحدہ انکم ٹیکس وصول کرلیاہے۔ جبکہ ایمنسٹی اسکیم کے نفاذ کے بعد ابتدائی20روز میں صرف پانچ کروڑ روپے وصول ہوئے تھے۔ ان اعداد وشمار سے پتہ چلتاہے کہ رئیل اسٹیٹ کے کاروبار میں بتدریج بہتری آرہی ہے تاہم طویل عرصے سے رئیل اسٹیٹ کاکاروبار بند رہنے سے سرمایہ کاروں کااعتماد مجروح ہوا ہے جس کی بحالی میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ جائیدادوں کی ڈی سی قیمتوں کی نسبت ایف بی آر کی ملک کے 21بڑے شہروں کے ویلیو ایشن ٹیبلز کی قیمتیں5گنازائد ہیں جس کے باعث رئیل اسٹیٹ کی خریدوفروخت میں مطلوبہ اور ناگزیر تیزی نہیں آپارہی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ قلیل مدت میں پونے سات ارب روپے کاکاروبار کیاجاچکاہے اور اس رقم کے دستاویزی معیشت میں داخل ہونے سے کاروباری سرگرمیوں کوفروغ حاصل ہوگا۔ حکومت کو مزید ٹیکس آمدنی حاصل ہوگی اور بڑے پیمانے پر روزگار کے موقع میسر آئیں گے۔

حنیف گوہر نے سرمایہ کاروں اوررئیل اسٹیٹ ایجنٹس سے استدعا کی کہ وہ رئیل اسٹیٹ ایمنسٹی اسکیم سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے اس یقین کااظہار کیا کہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہونے والے فیڈریشن کے صدر زبیر طفیل ایف بی آر کی پراپرٹی ویلیو ایشنز میں نمایاں کمی کے لئے بھرپور جدوجہد کریں گے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں میں ان کا ساتھ دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…