اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

نواز شریف اور سوئس کنفیڈریشن کی صدر ڈورس لتھ بارڈ کے درمیان ملاقات ٗ باہمی مفاد کیلئے تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق

datetime 18  جنوری‬‮  2017 |

ڈیووس (این این آئی)پاکستان اور سوئٹرز لینڈ نے باہمی مفاد کیلئے تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیر اعظم محمد نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری کو صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لینا چاہئے ٗ بھارت کشمیری عوام کے انسانی حقوق کا احترام اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرے ٗ پاکستان کی سلامتی براہ راست افغانستان میں امن و استحکام سے جڑی ہوئی ہے، پاکستان افغان عوام کی اپنے امن اور مفاہمتی عمل کی حمایت اور سہولت فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے ٗسوئٹزرلینڈ کا این ایس جی کی رکنیت کے حوالہ سے غیر امتیازی اور معیار کی بنیاد پر رکنیت کی سوچ قابل تعریف ہے ۔

بدھ کو یہاں وزیراعظم محمد نواز شریف نے عالمی اقتصادی فورم کے 47 ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر سوئس کنفیڈریشن کی صدر ڈورس لتھ بارڈ سے ملاقات کی جس میں پاکستان اور سوئٹزرلینڈ نے باہمی مفاد کیلئے تعاون کے نئے راستے تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو کہ باہمی تعاون، ہم آہنگی اور اعتماد پر مشتمل ہیں۔ پاکستان مختلف شعبوں میں سوئٹزرلینڈ کے ساتھ باہمی شراکت داری کو بڑھانا چاہتا ہے، سوئٹزرلینڈ پاکستان کا ایک دوست اور اہم تجارتی و سرمایہ کار شراکت دار ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کا این ایس جی کی رکنیت کے حوالہ سے غیر امتیازی اور معیار کی بنیاد پر رکنیت کی سوچ قابل تعریف ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ این ایس جی کا اہم حصہ ہونے کے ناطے سوئٹزرلینڈ اپنے اس اصولی مؤقف کو برقرار رکھے گا بالخصوص جب وہ اس سال کے بعد اس گروپ کی صدارت سنبھالے گا۔ سوئس صدر نے کہا کہ ان کے ملک کا نیوکلیئر سپلائر گروپ پر مؤقف غیر امتیازی اور اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کی اپنے امن اور مفاہمتی عمل کی حمایت اور اس ضمن میں سہولت فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کی سلامتی براہ راست افغانستان میں امن و استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ پاکستان تین دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، ہم اس وقت بھی 15 لاکھ مہاجرین کی میزبانی کر رہے ہیں اور اتنے ہی دستاویزات کے بغیر ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم توقع رکھتے ہیں کہ افغان مہاجرین کی پائیدار وطن واپسی کیلئے افغانستان میں سازگار ماحول ضروری ہے۔ سوئس صدر نے 30 لاکھ افغان مہاجرین کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے فروغ کیلئے اپنا کردار جاری رکھنا چاہئے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام دیرینہ مسائل کا پرامن اور دوستانہ حل چاہتا ہے۔انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں حال ہی میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات اور بھارتی قابض افواج کی جانب سے بالخصوص برہان وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لینا چاہئے اور بھارت پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے انسانی حقوق کا احترام کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کرے۔ وزیراعظم نے سوئس ایشیئن چیمبر آف کامرس، سوئس گلوبل انٹرپرائز اور سوئس بزنس کونسل کی پاکستان کیلئے سوئس بزنسز ہاؤسز متعارف کرانے کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے سوئس حکومت کی جانب سے پاکستانی طلباء کو سوئٹزرلینڈ کی سرکاری یونیورسٹیوں میں پوسٹ گریجویٹ سکالرشپ کی پیشکش کو سراہا۔ سوئس صدر نے کہا کہ ان کی حکومت کو پاکستان کی مختلف چیلنجوں کے باوجود معیشت میں تیز ترین ترقی پر خوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان درست سمت پر گامزن ہے اور وہ نواز شریف کی حکومت کی جانب سے پاکستان اور خطہ کے استحکام کے فروغ کیلئے اقتصادی نقشے کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوئس کمپنیاں پاکستان میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں جو ایک مثبت اور سازگار ماحول کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں کام کرنے پر تیار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…