اتوار‬‮ ، 15 فروری‬‮ 2026 

رضا ربانی سینیٹ کے چیئرمین کے لیے اپوزیشن کے امیدوار

datetime 10  مارچ‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان میں ایوانِ بالا کی 48 نشستوں پر انتخاب کے بعد سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما رضا ربانی کو سینیٹ کے چیئرمین کے لیے اپنا متفقہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔یہ فیصلہ پیر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے اہم اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کی۔اس اجلاس میں عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے اسفندیار ولی، مسلم لیگ ق کی جانب سے کامل علی آغا، ایم کیو ایم کے فاروق ستار اور جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شریک ہوئے۔اجلاس کے بعد رات گئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسفندیار ولی نے کہا کہ رضا ربانی کی نامزدگی تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے امیدوار بلوچستان سے ہوگا اور وہاں کی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس عہدے کے لیے امیدوار کے نام کا اعلان منگل کو کر دیا جائے گا۔اسفندیار ولی نے یہ بھی کہا کہ اس وقت ایوانِ بالا میں فاٹا کے جو چار سینیٹرز موجود ہیں ان میں سے تین سینیٹرز ہمارے ساتھ ہیں جبکہ ایک مولانا فضل الرحمان کے حامی ہیں۔ اس موقع پر رضا ربانی کا کہنا تھا وہ سینیٹ کی چیئرمین شپ کے لیے نامزدگی پر شکرگزار ہیں اور ان کی کوشش ہو گی کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں کے اعتماد پر پورا اتریں۔آزاد سینیٹر یوسف بادینی کی جماعت میں شمولیت کے بعد سینیٹ میں پی پی پی کی نشستوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد صرف الیکشن کے لیے ہی نہیں ہونا چاہیے بلکہ مستقبل میں ہر قانون سازی اور اہم معاملات میں اسے برقرار رہنا چاہیے۔خیال رہے کہ اس وقت سینیٹ میں پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت ہے اور پیر کو بلوچستان سے منتخب ہونے والے آزاد سینیٹر یوسف بادینی کی جماعت میں شمولیت کے بعد سینیٹ میں پی پی پی کی نشستوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ اس کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم 8 نشستوں کے ساتھ ایوان کی تیسری بڑی جماعت ہے جبکہ دیگر دو اتحادیوں اے این پی اور مسلم لیگ ق کے پاس سینیٹ میں بالترتیب سات اور چار نشستیں ہیں۔ادھر وزیراعظم نوازشریف نے منگل کو سیاسی قائدین کو ظہرانے پر ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے۔ریڈیو پاکستان کے مطابق اس ملاقات کے دوران سینیٹ کے چیئرمین اور نائب چیئرمین کے انتخابات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فی الحال اپوزیشن کے امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے اور مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ وہ نواز شریف سے ملاقات کے بعد ہی اپنی جماعت کے حتمی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔خیال رہے کہ حال ہی میں بی بی سی اردو سے بات چیت میں مسلم لیگ نواز کے رہنما خاصے پرامید دکھائی دیے تھے کہ نمبر گیم میں بظاہر پیچھے رہ جانے کے باوجود ان کی جماعت ملک کے دوسرے اعلیٰ ترین آئینی عہدے کو حاصل کر لے گی۔مسلم لیگ نواز کے رہنما، نو منتخب سینیٹر اور وفاقی کابینہ کے رکن مشاہد اللہ خان نے کہا تھا کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ایک نیا مرحلہ ہے اور 25اس نئے مرحلے پر نئے اتحاد بنیں گے۔ نئے جوڑ توڑ ہوں گے اور نئے سرے سے مذاکرات ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…