ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

جنرل طارق اور ناصر الملک سے ملاقات،عمران خان نے حلف اُٹھالیا،بڑا دعویٰ کردیا

datetime 18  جنوری‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حلفاً کہتا ہوں جنرل طارق اور ناصر الملک سے کبھی نہیں ملا، نواز شریف کے خلاف سب سے بڑا ثبوت پاناما لیکس میں نام آنا ہے ، وہ اس کیس میں بری تو ہو سکتے ہیں لیکن باعزت بری نہیں ہو سکتے، وزیر اعظم کو اسمبلی کی تقریر جھوٹی ثابت ہونے کا ڈر ہے، اسی لئے استثنیٰ کے پیچھے بھاگ رہے ہیں،پاکستان کرپشن اور غربت میں ڈوب رہا ہے ۔منگل کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی طاقتور کا احتساب نہیں ہوا،پاکستان کیلئے ایک فیصلہ کن مرحلہ ہے جو سپریم کورٹ میں ہورہا ہے یہ ایک تاریخ بن رہی ہے ، نوازشریف نے پارلیمنٹ میں کہا وہ اوران کا خاندان احتساب کیلئے تیار ہیں ،اپوزیشن نے کہا کہ احتساب ٹی اوآرز کے مطابق ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ نوازشریف کی تقریر اور ان کے بچوں کے بیان میں تضاد ہے ،وزیراعظم کے وکیل نے کہا منی ٹریل کی کوئی دستاویزات نہیں ہیں مگر وزیراعظم نے اسمبلی میں یہ کہا تھا کہ تمام دستاویزات موجود ہیں ،وزیراعظم کو ڈر ہے کہ اسمبلی کی تقریر جھوٹ ثابت ہوگئی تو نااہل ہو جائیں گے اس لئے استثنیٰ مانگ رہے ہیں اگر انہوں نے جھوٹ نہیں بولا تو انہیں استثنیٰ مانگنے کی کیا ضرورت ہے حالانکہ انہوں نے اسمبلی میں لکھی ہوئی تقریر پڑھی تھی ۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف لندن کی پراپرٹی چھپانے کیلئے بھی جھوٹ بول رہے ہیں ،لندن فلیٹس تو کچھ بھی نہیں ان کی اور بھی بہت زیادہ جائیدادیں ہیں ، عوام کا پیسہ چوری ہوا ہے وزیراعظم کو اس کا جواب دینا پڑے گا کیونکہ حقیقی جمہوریت میں سربراہ جوابدہ ہوتا ہے ۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پانامہ لیکس میں وزیراعظم کا نام آنا ہی ان کے خلاف سب سے بڑا ثبوت ہے ،آئی سی آئی جے کے مطابق مریم نوازلندن فلیٹس کی مالک ہیں ،نوازشریف نے سب جائیداد اپنے بچوں کے نام پر رکھی ہوئی ہے ،پاکستان کرپشن اور غربت میں ڈوب رہا ہے جبکہ ایک چھوٹا سا طبقہ پیسہ چوری کر کے ملک سے باہر لے جا رہا ہے ، حسن نواز650کروڑ روپے کے فلیٹ میں رہتے ہیں ،

انہوں نے کہا کہ پہلی بار جاوید ہاشمی کے بیان پر زبان کھولتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حلفاً کہتا ہوں جنرل طارق اور ناصر الملک سے کبھی نہیں ملااور عدالت کے ذریعے مارشل لاء لگ ہی نہیں سکتا ،ہم نے آئندہ الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے اور ہم شہباز شریف کے خلاف بھی کیس دائر کرنے جا رہے ہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…