ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

جیتنا ہے تو تیسرے میچ میں یہ کام ضرور کرنا،رمیز راجہ نے قومی ٹیم کو اہم مشورہ دیدیا

datetime 16  جنوری‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم پرتھ میں بھی آسٹریلیا کے خلاف سپن باؤلر کے ساتھ اٹیک کرے۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ آسٹریلیا کیخلاف دوسرے ون ڈے میچ میں محمد حفیظ نے کپتانی بہت اچھی کی اور باؤلنگ بھی بہت زبردست ہوئی کیونکہ آسٹریلیا کو ان کے ہوم گراؤنڈ میں ہی آل آؤٹ کر دیا جو زبردست بات ہے۔ جنید خان اور عماد وسیم کی وجہ سے پاکستان کی باڈی لینگوئج بہت بہتر ہوئی ہے ٗ یہ وہ آسٹریلیا کی ٹیم نہیں جسے ہرایا نہیں جا سکتا، اس لئے یہ سیریز جیتنے کا بہت اچھا موقع ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پہلا ون ڈے ہارنے کے بعد قومی کرکٹ ٹیم نے جس طرح کم بیک کیا ہے یہ بہت ہی زبردست بات ہے تاہم ضرورت سے زیادہ پراعتماد نا ہوں اور اپنی خامیوں پر قابو پا کر تیسرے میچ کیلئے میدان میں اتریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مودجودہ بیٹنگ لائن کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوچ ہونی چاہئے کہ جو بلے باز فارم میں ہے وہ میچ ختم کرے کیونکہ بعد میں آنے والے بلے باز کیساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔تیسرے ون ڈے میں پاکستان کی حکمت عملی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رمیز راجہ نے کہا کہ ٹیم گھبرائے مت اور میلبورن کی طرح پرتھ میں بھی سپن باؤلرز کے ذریعے اٹیک کرے۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ پرتھ کی وکٹ فاسٹ باؤلرز کیلئے مددگار سمجھی جاتی ہے لیکن میرے خیال میں محمد حفیظ، شعیب ملک اور عماد وسیم جس طرح باؤلنگ کر سکتے ہیں، آسٹریلوی بلے بازوں کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے کیونکہ آسٹریلیا سپن باؤلنگ کے خلاف بہت خراب پرفارمنس دے رہا ہے ۔بلے بازوں کو مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پرتھ میں گیند باؤنس کرتا ہے اس لئے بیک فٹ پر اور کٹ شاٹ زیادہ کھیلنا پڑتی ہے اور اس کیلئے صرف ایڈجسٹ ہونے کی ضرورت ہے۔ بلے باز اکثر وکٹ کی جانب آنے والی گیند کو بھی ویل لیفٹ کر دیتے ہیں کیونکہ زیادہ باؤنس ہونے کے باعث گیند وکٹ کے اوپر سے گزر جاتا ہے اس لئے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور صرف مثبت ذہن کے ساتھ میدان میں اترنے کی ضرورت ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…