ہفتہ‬‮ ، 12 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے جو افغانستان کے خلاف استعمال ہو،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

datetime 16  جنوری‬‮  2017 |

راولپنڈی(آئی این پی) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح کیا ہے کہ الزام تراشی سے پائیدار امن اور استحکا م کو نقصان پہنچتا ہے،پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشنز کئے ہیں،پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے جو افغانستان کے خلاف استعمال ہو،پاکستان افغان قیادت پر مشتمل امن عمل کی حمایت کرتا ہے، علاقائی استحکام اور انسداد دہشت گردی آپریشن میں امریکی تعاون کی بڑی اہمیت ہے۔پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے جنرل ہیڈ کوارٹر میں امریکی سینٹکام کے کمانڈر جنرل جوزف ووٹل نے ملاقات کی جس میں پیشہ وارانہ امور خاص طور پر افغانستان کی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ علاقائی استحکام اور انسداد دہشت گردی آپریشن میں امریکی تعاون کی بڑی اہمیت ہے۔ پاکستان افغان قیادت پر مشتمل امن عمل کی حمایت کرتا ہے۔ افغانستان میں حالیہ دہشتگردوں حملوں کے تناظر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ الزام تراشی سے پائیدار امن اور استحکا م کو نقصان پہنچتا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز آپریشنز کئے ہیں۔

پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں ہے جو افغانستان کے خلاف استعمال ہوتا ہو۔ آرمی چیف نے کہاکہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی بہتر بنانے کے لئے افغانستان اور امریکی قیادت میں ریزالیوٹ سپورٹ مشن کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔آرمی چیف نے پاک افغان دوطرفہ بارڈر سیکورٹی اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے میکنزم کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر امریکی کمانڈر جنرل جوزف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ خطے میں قیام امن اور استحکام کیلئے پاک فوج کے کردار کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن و استحکام کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان بامقصد مذاکرات ضروری ہیں۔امریکی کمانڈر نے افغان قیادت میں افغان مفاہمتی عمل کے حوالے سے آرمی چیف کے خیالات کی حمایت کی ۔ قبل ازیں امریکی سینٹکام کے کمانڈر جنرل جوزف جی ایچ کیو پہنچے تو معزز مہمان کو پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ جنرل جوزف نے یادگار شہداء پر حاضری بھی دی اور پھول چڑھائے۔ بعد ازاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی جانب سے معزز مہمان کے اعزاز میں ڈنر کا بھی اہتمام کیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…