پیر‬‮ ، 09 فروری‬‮ 2026 

جامعہ فاروقیہ کراچی کے مہتمم حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب انتقال کرگئے

datetime 15  جنوری‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) صدر وفاق المدارس العربیہ مولانا سلیم اللہ خان طویل علالت کے بعد کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کرگئے۔تفصیلات کے مطابق صدر وفاق المدارس العربیہ مولانا سلیم اللہ خان گزشتہ کئی روز سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کے انتقال کے بعد ملک بھر کے مذہبی حلقوں میں سوگ کی کیفیت چھا گئی ہے۔ مولانا سلیم اللہ خان جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی کے مہتمم و شیخ الحدیث تھے اور شیخ حسین احمد مدنی ؒ کے شاگرد تھے۔
حوم کا شمار پاکستان کے سب سے بڑے عالم کے طور پر ہوتا تھا اور وہ شیخ السلام مولانا حسین احمد مدنی کے شاگرد خاص تھے جبکہ کئی دہائیوں سے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ بھی تھے۔ مولانا سلیم اللہ خان کے زیر انتظام کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں جامعہ فاروقیہ سمیت مختلف بڑے مدارس کام کررہے تھے جبکہ مولانا سلیم اللہ خان کے شاگردوں میں مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی، شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی سمیت دنیا بھر میں ہزاروں شاگرد، کروڑوں متعلقین ہیں۔ مولانا سلیم اللہ خان کے صاحبزادے مولانا عادل خان اور مولانا عبید اللہ خالد کا شمار بھی پاکستان کے جید علماء میں ہوتا ہے۔ دریں اثناء جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ناظم قاری محمد حنیف جالندھری ، اہلسنت والجماعت کے سربراہ علامہ محمد احمد لدھیانوی، مولانا اورنگزیب فاروقی، اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کے ناظم اعلیٰ مفتی منیب الرحمن، وفاق المدارس کے مرکزی شوریٰ کے رکن مفتی محمد نعیم، مجلس صوت الاسلام کے چیئرمین مفتی ابوہریرہ محی الدین، جمعیت علماء اسلام سندھ کے رہنما علامہ راشد خالد محمود سومرو، قاری محمد عثمان، مولانا عبدالکریم عابد، مولانا عبدالحق عثمانی، قاری شیر افضل، قاری غلام رسول ناصر، مولانا غیاث الدین، مولانا حماد اللہ شاہ، جماعت اسلامی سندھ کے مرکزی رہنما مولانا اسد اللہ بھٹو، ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی، حافظ نعیم الرحمن، حسین محنتی اور دیگر نے مولانا سلیم اللہ خان کے انتقال کو امت کے لئے سانحہ قرار دیتے ہوئے ان کی ملک وملت کے لئے دینی وملی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایسی ہستی سے محروم ہوگیا ہے جس کا خلاء پورا صدیوں میں بھی پورا نہیں ہوسکتا۔ مولانا سلیم اللہ خان نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی تبلیغ، ترویج اور امت کی اصلاح کے لئے صرف کی اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر کونے میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ان کے شاگرد دین تبلیغ میں مصروف عمل ہیں۔
حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب کی تمام زندگی اسلام کی تبلیغ میں گزری اوراس سلسلے میں وہ اپنے ساتھیوں کوبھی اسلام کے ہونے والی سازشوں کے بارے میں اپنے ساتھی علماکوبھی خطوط کے ذریعے آگاہ کرتے تھے ذیل میں ان کاایک تاریخی خط کے مندرجات کچھ یوں ہیں ۔
Screenshot_1



کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…