جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

بھارتی فوجی نے اپنی فوج کا ہی دنیا بھر میں منہ کالا کردیا،سوشل میڈیاپر جاری ویڈیو دیکھ کر ہر کوئی حیرت زدہ

datetime 9  جنوری‬‮  2017 |

نئی دہلی (آئی این پی)خطے میں چودھراہٹ کے دعویدار اور پاکستان کو سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکیاں دینے والے بھارت کو سرحد پر تعینات اپنے فوجیوں کو کھانے کے لالے پڑ گئے،بی ایس ایف کے اہلکار نے فوجی راشن کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر کے بھارتی فوج کا پول کھول دیا۔بھارتی اخبار ’’ انڈین ایکسپریس ‘‘کی رپورٹ کے مطابق بارڈر سیکیورٹی فورس(بی ایس ایف) کے ایک فوجی تیج بہادر یادیو نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک وڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے سرحد پر جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑنے والے فوجیوں کو ملنے والے ناقص اور ناکافی کھانے کا تذکرہ کیا ہے۔تیج بہادر یادیو کا کہنا ہے کہ ‘بھوکے پیٹ کیا خاک جنگ لڑیں، ناشتے میں جلا ہوا پراٹھا اور ایک کپ چائے ملتی ہے’۔بھارتی فوجی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ‘جو بھی راشن فوجیوں کے کھانے کے لیے آتا ہے اسے بازاروں میں فروخت کردیا جاتا ہے’۔فوجی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ دوپہر میں صرف 2 روٹیاں ملتی ہیں، کھانے میں مصالحے اور گھی کے بغیر بنی دال ملتی ہے’۔ تیج بہادر نے یہ بھی کہا کہ بعض اوقات تو فوجی جوان خالی پیٹ ہی سوجاتے ہیں۔

وڈیو میں فوجی اہلکار کہہ رہا ہے کہ اسے سرکار سے کوئی شکایت نہیں کیوں کہ حکومت سب کچھ بھیجتی ہے لیکن اعلی حکام اسے بیچ کر کھا جاتے ہیں جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔فیس بک پر شیئر کی گئی اس بھارتی فوجی کی وڈیو جس میں اس نے بھارتی حکومت کے دعووں کو بے نقاب کیا، اسے اب تک لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں اور یہ انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی ہے۔فوجی جوان کی یہ وڈیو سامنے آنے کے بعد بھارتی میڈیا نے بھی حکومت اور فوج پر تنقید شروع کردی اور فوج کے اندر ہونے والی کرپشن پر نئی بحث چھڑ گئی۔

بھارتی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تعینات اس فوجی کی وڈیو سامنے آنے کے بعد بی ایس ایف نے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔بی ایس ایف کے ترجمان نے اخبار کو بتایا کہ جموں میں بی ایس ایف کے ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل رینک کے افسر کو اس حوالے سے آگاہ کردیا گیا ہے اور انہیں معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔اخبار کے مطابق ترجمان نے تصدیق کی کہ فوجی جوان کانسٹیبل تیج بہادر یادیو بی ایس ایف کا اہلکار ہے جو راجوری سیکٹر میں تعینات ہے۔ترجمان کے مطابق تیج بہادر کے الزامات کی تحقیقات کی جارہی ہیں جس کے بعد قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب حکام نے یادیو کے فیس بک پیج اور وڈیوز کے حقیقی ہونے کی تحقیقات بھی شروع کردی ہیں۔



کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…