جمعرات‬‮ ، 04 جون‬‮ 2026 

امریکی حملے سے پہلے صدام حسین نے وہ کونسا ایسا کام کیا جوعراق کی تباہی کا بہانہ بن گیا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  جنوری‬‮  2017 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹرجان نکسن نے امریکہ عراق جنگ کے بعد دنیامیں کئی اورخفیہ مشن سرانجام دینے کے بعد 2011میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی اوراپنی ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے صدام حسین کے حوالے ایک کتاب ’’ڈی بریفننگ دی پریزیڈنٹ ‘‘لکھی ۔جان نکسن نے اس کتاب میں سابق عراقی صدرکی زندگی کے مختلف پہلوئوں کوسامنے لایا۔ ’’ڈی بریفننگ دی پریزیڈنٹ ‘‘کے حوالے سے ہی جان نکسن نے ایک برطانوی نشریاتی ادارے کوانٹرویودیتے ہوئے بتایاکہ انہوں نے صدام حسین کے بارے میں کتاب اس لئے لکھی کیونکہ دوران تفتیش ہی صدام حسین کے بارے میں تحقیق میری زندگی کامحوربن گئی تھی ۔

جان نکسن نے بتایاکہ سابق عراقی صدرکی ذات تضادات کامجموعہ تھی کیونکہ دوران تفتیش صدام حسین کاجب جی چاہتاتو وہ بہت مسحور کن، شوخ، اور خوش اخلاق ہو جاتےاورکبھی وہ بدتمیز، مغرور اور مطلبی شخص بن جاتےتھے جس کاتفتیش کے دوران میں نے بخوبی مشاہدہ کیا۔انہوں نے بتایاکہ سی آئی اے کے پاس کوئی ایساثبوت نہیں تھاکہ وہ صدام حسین کوبات کرنے پرمجبورکرتی۔جان نکسن نے بتایاکہ دوران تفتیش صدام حسین سے یہ معلوم ہوگیاتھاکہ عراق پرجوہری ہتھیاررکھنے کاالزام لگاکرحملہ کرنےکاجوجوازبنایاگیاتھاوہ غلط تھاکیونکہ دوران تفتیش معلوم ہوگیاکہ صدام حسین اس پروگرام کوامریکی حملے سے پہلے ہی ہمیشہ کےلئے بند کرچکے تھے ۔انہوں نے بتایاکہ دوران تفتیش ہی میں صدام حسین سے اتنے متاثرہواتھاجس کی وجہ سے میں نے کتاب’’ڈی بریفننگ دی پریزیڈنٹ ‘‘لکھی۔جان نکسن نے گفتگوکرتے ہوئے امریکی صدربش پرشدید تنقید کی اورکہاکہ میں کئی مرتبہ صدربش اورصدام حسین سے ہاتھ ملاچکاہوں اوراب بھی مجھے یہ کہاجائے کہ میں ان دونوں میں سے کس سے ہاتھ ملاناپسندکروں گا تومیں صدربش کے بجائےسابق عراقی صدرسے ہی ہاتھ ملائوں گا۔انہوں نے بتایاکہ صدربش ایک خوشامد پسند انسان تھے اورا ن کوحقیقت کا کوئی ادراک نہیں تھاکہ عراق جنگ کے بعد دنیاپراس کے کیا اثرات مرتب ہونگے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…