اتوار‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2026 

دو سال میں دس شادیاں، ایرانی خاتون دھر لی گئی

datetime 8  مارچ‬‮  2015 |

تہران (نیو ز ڈیسک)ایرانی حکام نے ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کیا گیا ہے، اْس کی عمر بیس برس بتائی گئی ہے۔ اْس کا نام اور صورت عدالتی حکم پر مخفی رکھی گئی ہے۔ ملزمہ نے دھوکا دہی اور فراڈ کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایران کی ایک فوجداری عدالت نے اس لڑکی پر شادی کے نام پر فراڈ کرنے اور دھوکا دہی سے دولت سمیٹنے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ عدالت نے مقدمے کی باضابطہ کارروائی شروع کرنے کی تاریخ بھی مقرر کر دی ہے لیکن اِس کا اعلان عام نہیں کیا گیا ہے۔ایک ایرانی اخبار کے مطابق نوجوان لڑکی نے شادیاں ضرور رچائی ہیں لیکن ازدواجی تعلقات کے قائم ہونے سے قبل ہی اپنے شوہروں سے طلاق کا مطالبہ کر دیا کرتی تھی۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ لڑکی شادی رچانے کے دوران اور بعد میں لبھانے کے رویوں اور دوسرے حیلے بہانے استعمال کرتے ہوئے دولت اکھٹی کرنے کی کوشش میں تھی۔
اس نوجوان خاتون کو فراڈ اور دھوکا دہی کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے اس نوجوان خاتون کو فراڈ اور دھوکا دہی کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا ہے ایران میں سن 1976 کے اسلامی انقلاب کے بعد ایک خاتون اپنے ہونے والے شوہر کے ساتھ حقِ مہر کی رقم کو طے کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ یہ رقم باہمی رضامندی سے طے کی جاتی ہے۔ ایرانی لڑکی بھی اِس قانون کا سہارا لے کر مہر کی رقم طے کرتی اور شادی کے فوری بعد طلاق کا مطالبہ کر کے طے شدہ رقم کا نصف حاصل کرتی رہی۔ یہ امر اہم ہے کہ ایسا مطالبہ ایرانی عائلی قانون میں بھی جائز ہے۔ایرانی اخبار کے مطابق لڑکی نے دو سالوں کے درمیان جو دس شادیاں رچائی، ان میں وہ پہلے مہر کی رقم طے کراتی اور پھر فوری طور پر ازدواجی تعلقات کے قائم ہونے سے قبل ہی طلاق حاصل کر لیتی تھی۔ عدالت میں لڑکی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ نہیں سمجھتی کہ اْسے تمام سوالوں کے جواب یقینی طور پر دینے ضروری ہیں۔ عدالت میں لڑکی نے خود کو معصوم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اْس کی تمام شادیاں قانون کے عین مطابق اور جائر تھیں۔ اخبار کے مطلابق تفتیش کار نے لڑکی کے تمام دس شوہروں کو طلب کر کے انکوائری بھی مکمل کی ہے۔لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ تمام دس مردوں نے اْس کے ساتھ شادی اپنی مرضی سے کی تھی اور شادی کے فوری بعد پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث ان کو توڑنا پڑا تھا۔ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ وہ ابھی تک کنواری ہے اور مروجہ قانون کے تحت کنواری لڑکی کو طلاق دینے کے بعد مہر کا نصف ادا کرنا ہوتا ہے۔دس شادیاں رچانے والی لڑکی کے بار بار مختلف شوہروں کے ساتھ شادیاں کرنے کے بعد ایرانی دارالحکومت تہران کے دفترِ رجسٹرار میں اْس کی مختلف وقفوں سے آمد پر ہلچل پیدا ہوئی تھی۔ ہر شادی کے بعد وہ اپنے شناختی کارڈ میں تبدیلیاں بھی کرواتی رہی۔ ایران میں شادی کے بعد بھی کنواری رہ جانے والی خاتون اپنے شناختی کارڈ سے شوہر کا نام ہٹانے کا حق رکھتی ہے۔ لڑکی کے طلاق کے بعد انہی تبدیلیوں پر ہی تفتیشی عمل شروع کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…