بدھ‬‮ ، 03 جون‬‮ 2026 

سپین کی سرحد میدان جنگ بن گئی،سینکڑوں افراد کا دھاوا،درجنوں سرحدی محافظ زخمی

datetime 3  جنوری‬‮  2017 |

میڈرڈ/رباط(این این آئی)مراکش اور سپین کی سرحد پر ایک ہزار سے زیادہ پناہ گزینوں کے سرحد عبور کرنے کی کوششوں میں 50 مراکشی اور پانچ سپینی سرحدی گارڈز زخمی ہو گئے ۔تقریبا 1100 پناہ گزین سپین کے شمالی افریقی انکلیو سیوٹا پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق حکام نے بتایا کہ ان میں سے صرف دو پناہ گزین سرحد پار کرنے میں کامیاب رہے لیکن 20 فٹ اونچی دیوار عبور کرنے میں وہ زخمی ہو گئے اور انھیں طبی امداد کے لیے ہسپتال روانہ کر دیا گیا ہے جبکہ سرحد میں داخل ہونے کی کوششوں سے روکنے کے دوران ایک سرحدی محافظ کی آنکھ کی بینائی متاثر ہوئی ۔خیال رہے کہ اس سے قبل دسمبر میں 400 سے زیادہ پناہ گزین سیوٹا کی دیوار عبور کرنے میں کامیاب رہے تھے اور اْن کی اس کامیابی سے ہزاروں نئے پناہ گزینوں کو تحریک ملی تھی۔

جنوبی افریقہ کے وسیع ریگستانی علاقے والے ممالک کے ہزاروں پناہ گزین مراکش میں غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں اور وہ یورپ میں داخل ہونے کی امید میں ہر سال مراکش کی سرحد پر موجود سپین کے شمالی افریقی انکلیوز میں داخل ہونا چاہتے ہیں۔سیوٹا اور میلیلا کے انکلیوز افریقہ میں یورپ کی واحد زمینی سرحدیں ہیں۔زیادہ تر پناہ گزینوں کو سرحد عبور کرنے سے روک دیا جاتا ہے اور انھیں مراکش واپس بھیج دیا جاتا ہے جبکہ جو سرحد عبور کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں انھیں یا تو دوبارہ ملک بدر کر دیا جاتا ہے یا پھر انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔درجنوں افراد سرحدی باڑ پر چڑھنے میں کامیاب ہو گئے تھے لیکن سپینی سرحدی گارڈز انھیں واپس مراکش بھیجنے میں کامیاب رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…