اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

عوام’’ فوجی بیرکوں ‘‘کی طرف نہیں دیکھے گی،عمران خان کی ذمہ داری لینے سے انکار،مریم نواز کامے فیئر سے تعلق،شیخ رشید کے انکشافات

datetime 2  جنوری‬‮  2017 |

لاہور( آئی این پی) عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے جنوری کو ’’اہم ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاناما لیکس کا فیصلہ انصاف پر مبنی ہوا تو عوام’’ فوجی بیرکوں ‘‘کی طرف نہیں دیکھے گی‘ پانامہ کیس کا فیصلہ بھی اسی ماہ ہونے کی توقع ہے ‘عمران خان اور انکی سیاست کا میں ذمہ دار نہیں ہوں ‘ میں شہباز شریف کو نشانہ نہیں بنانا چاہتا ہر ٹیم کاکپتان اچھی بری کارکردگی کا ذمہ دار ہوتا ہے‘بلاول بھٹو پر آصف زرداری بھاری ہو چکے ہیں‘27دسمبر کو پیپلزپارٹی کے غبارے سے ہوا نکلی گئی ہے‘میرا کیس شاٹ،اسماٹ اور سویٹ ہے‘ پانامہ کیس کا فیصلہ جیسا بھی آئے جنوری کا مہینہ ملکی سیاست میں اہم ہو گا‘مریم نواز مے فیئر کی ٹرسٹی نہیں بینی فشری ہیں اس کا بھی سپر یم کورٹ میں فیصلہ ہو جائیگا ۔

سوموار کے روز لاہور میں عوامی تحر یک کے خر م نواز گنڈا پورا کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ پاناما لیکس جمہوریت کے استحکام کا محور ہے‘پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ کے فیصلے کی طرف ہے‘سپریم کورٹ میں دو کاغذ دے دیے ہیں جو مریم نواز شریف کے مے فیئر کمپنی کے بینی فشری ہونے کا ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے انصاف پر مبنی فیصلہ آیا تو عوام اب فوجی بیرکو کی طرف نہیں دیکھے گی اگر بڑے آدمی کی سزا نہیں ہو گی تو چوری ،زنا اور قتل کے ملزمان کو بھی جیلوں سے رہا کردیا جائے ‘ہم اللہ کی طرف دیکھ رہے ہیں ہمارا وہی وکیل ہے ۔

انہوں نے مزید کہا لوٹ کھسوٹ کا پیسہ واپس آنا چاہییپاناما لیکس میں ابھی صرف سات فیصد کرپٹ سیاستدانوں کی نام آئے ہیں اگر 70فیصد کے آجائیں تو پوری دنیا کرپٹ سیاستدانوں سے پاک ہو جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں شہباز شریف کو نشانہ نہیں بنانا چاہتا ہر ٹیم کاکپتان اچھی بری کارکردگی کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ میں مر یم نواز شر یف کے ٹویٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کر وں گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…