ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

جاتے جاتے چیف جسٹس نے سنگین اعتراف کرلیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس سپریم کورٹ انور ظہیر جمالی نے کہاہے کہ آنے والے وقت میں بہتری کی امید نظرنہیں آتی کیونکہ اداروں میں بدعنوانی اوراقربا پروری کا بازار گرم ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد ہوا ، جس میں عدالت عظمیٰ کے تمام فاضل جج صاحبان اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کے علاوہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدور نے شرکت کی۔

ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان انورظہیرجمالی نے کہاکہ کہ اسلام انسانیت کا علمبردار، محبت اورامن کا مذہب ہے، بدقسمتی سے اسلام کو مختلف وجوہات کی بناپر پوری دنیا میں بدنام کیا گیا، قانون کی حکمرانی کے لیے اداروں میں ہم آہنگی اورمضبوطی ضروری ہے، ملک میں ہرطرف افراتفری، بدانتظامی اورناانصافی کا دوردورہ ہے، آنے والے وقت میں بہتری کی امید نظر نہیں آتی کیونکہ اداروں میں بدعنوانی اوراقرباپروری کا بازار گرم ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے ناانصافی، اقرباپروری اور بدعنوانی کے تدارک میں کردارادا کرنے کی کوشش کی ، اب وقت بتائے گا میں اپنی کوششوں میں کتنا کامیاب ہوا، بدانتظامی اورافراتفری سے عوام کو ناقابل تلافی نقصان کا سامنا ہے، بے حسی اور ناامیدی کا احساس تباہی کا سبب بن سکتا ہے، ہمیں اپنی توانائیاں ملک کی بہتری کے لیے صرف کرنی چاہیے، حقوق کی بات کرنے والے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہیں جب کہ اکثر سرکاری ادارے اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام نظر آتے ہیں۔

انورظہیر جمالی نے کہاکہ بطور چیف جسٹس ہر شخص کی جانب سے تعاون پر ان کا شکرگزارہوں، اللہ اس آئینی ادارے کو دوام اوراستحکام بخشے۔دوسری جانب نامزد جسٹس انور ظہیر جمالی کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے والے جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی صوفی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں، چیف جسٹس کے والد حضرت بابافرید گنج شکر کے مرید تھے، چیف جسٹس انورظہیرجمالی کی خدمات بے مثال ہیں، ان کا منصب امتحانوں اور آزمائشوں سے بھرا پڑا ہے۔ عدلیہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ذمہ دارہے، آزاد عدلیہ جمہوریت کا اہم جزو ہے، عدلیہ کو غیر جانبدار اور دباؤ سے آزاد ہوکرکام کرنا چاہیے، اللہ کے فضل سے پاکستان کی عدلیہ آزاد ہے اورعدلیہ آئندہ بھی اپنی آزادی کو برقراررکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بددیانتی، بے ایمانی سے ہی بدعنوانی پروان چڑھتی ہے جب کہ حکومت اورانتظامیہ کی اختیارات کے استعمال میں کوتا ہی کرپشن ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…