اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

تنہا اونٹ اور اندھی گھوڑی کی بے مثال دوستی, اونٹ گھوڑی کیلئے کیا کام کر تا ہے ؟

datetime 10  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکامیں ایک ایسا اونٹ سامنے آیا ہے جو اپنے ساتھ اندھی گھوڑ ی کے گائیڈ کا کام کرتا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق امریکا کے سفری چڑیا گھر میں ایک ایسا اونٹ منظرعام پر آیا ہے جو کہ اپنے ساتھ اندھی گدھی کو گائیڈ کر تا ہے ۔ معروف جریدے کو ایڈ پاپسس نے بتا یا ہے کہ ڈولی نامی گھوڑی پچھلے 10سال سے ہمارے پاس ہے ، یہ پہلے بالکل ٹھیک تھی مگر حال ہی میں اس کی آنکھوں کی بنیائی چلی گئی ہے ۔
پاپسس کا مزید بتا یا ہے کہ سیزر نام کا اونٹ ان کے چڑیا گھر بہت اہم اور مقبول ترین جانور ہے، چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اونٹ کے تنہا ہونے پر اندھی گھوڑی کو اس کے ساتھ چھوڑ دیا ، ان کا خیال تھا کہ اس سے سیزر کی تنہائی بھی ختم ہو جائے گی اور دونوں آپس میں گھل مل بھی جائیں گے ۔ تاہم جلد ہی سیزر اور ڈولی کی دوستی ہو گئی ۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ساتھ کھانا اور رہنا شروع کر دیا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اب ڈولی سیزر کی رہنمائی پر اپنے چلتی پھرتی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب سیزر ڈولی سے ذرا بھی دور ہو جائے تو یہ بے اختیار ہنہنانا شرو ع کر دیتی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…