اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

گوادر تک رسائی،اہم ملک نے سی پیک میں حصہ بننے کی باضابطہ خواہش ظاہر کردی

datetime 31  دسمبر‬‮  2016 |

تاشقند(آئی این پی)ازبکستان نے بھی متعدد ممالک کے بعد پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کر دی ۔ازبکستان کی سینٹ کی خارجہ پالیسی کی کمیٹی کے چیئرمین صودیک سولی ہووچ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ گوادر بندرگاہ تک رسائی حاصل کرنا ازبکستان کی خواہش ہے جسے بہترین طریقے سے استعمال کرتے ہوئے بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان علاقائی اتحاد ہیں اور دونوں ممالک معیشت ، ثقافت اور سیکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو بہتر طریقے سے فروغ دے سکتے ہیں ۔

پاکستان کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔اس حوالے سے دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے مابین متعدد مرتبہ ماضی میں ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ دونوں ممالک کا آپس میں براہ راست رابطہ نہ ہونا ہے ۔دونوں ممالک کو باہمی تعلقات کے ذریعے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے ۔دونوں ممالک کے مابین نئی تجارتی راہداریوں کو شروع کرنے اور تجارت کو فروغ دینے سے منڈیوں کے مابین رابطے قائم ہوں گے ۔

پاک چین اقتصادی راہداری عالمی منڈیوں تک رسائی کے لئے ازبکستان کی بھرپور مدد کرسکتی ہے ۔ہمیں یہ جان کر خوشی ہوئی کہ رواں سال تجارتی راہداری کے ذریعے پہلا چینی قافلہ براستہ گوادر عالمی منڈیوں کے لئے روانہ ہوا ۔ازبکستان چین کے ساتھ براہ راست ریلوے لائن بچھانے کیلئے مذاکرات کا آغاز کر چکا ہے جبکہ سی پیک سے بھی ہمارے لئے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کے نئے مواع پیدا ہوں گے چونکہ ازبکستان خشکی سے گھرا ہوا ملک ہے اس لئے گوادر جیسی بندرگاہ ازبکستان کے لئے عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنے کے لئے بہترین معاون ثابت ہو سکتی ہے ۔ گوادر بندرگاہ ازبکستان کے قریب ترین ہے اور اس کے ذریعے تجارت کرنا ہماری اولین خواہش رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…